اداریہ شمارہ ۔  ۹۔

نسترن احسن فتیحی

دیدبان کا آن لائین شمارہ نہم ’مزاحمتی ادب ‘ کے موضوع پر تیسرا اور آخری شمارہ ہے ۔ جوکسی حد تک تاخیر سے آپ کے سامنے پیش کیا جا رہاہے۔ ہماری رفیق کار سلمی جیلانی کی شدید اور طویل علالت کے سبب ہم سب ذہنی طور پر پریشان ہیں اور خدائے وند کریم کی بارگاہ میں دعاءگو ہیں کے اللہ انہیں شفائے کاملہ عطا کرے۔آمین ثم آمین۔

ہم تینوں رفیق کاریعنی میرے ساتھ سلمی ٰجیلانی اور سبین علی یقناًایک دوسرے کی طاقت ہیں اور ایک ساتھ مل کر اس جوکھم کو اٹھانے کی ہمت اب بھی برقرار ہے۔ اس دو سال کے قلیل عرصے میں ”دیدبان جلد ۔۱ “ اور ” دیدبان جلد ۔ ۲ “کی اشاعت کتابی شکل میں بھی ممکن ہو پائی اور اس کی بھر پور پذیرائی نے ہمیں یہ یقین دلا دیا ہے کہ ہماری محنت وقت کی رائیگانی نہیں ہے بلکہ وقت کی ضرورت ہے ۔

آج ہم اردو زبان کے تاریک مستقبل کا کتنا بھی نوحہ پڑھ لیں مگر اس سے محبت کرنے والے ابھی باقی ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ نئی ڈیجیٹل دنیا میں اردو زبان کا پھیلاﺅ تیزی سے ہو رہا ہے ۔ اردو کی محبت میں غیر اردو داں طبقہ بھی تیزی سے جڑا ہے اور اس کامیابی کی کئی وجوہات ہیں ،اس میں اردو کے لئے مختلف لوگوں کی طرف سے الگ الگ طریقے سے کی گئی کاوشیں شامل ہیں۔ جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ مگر اب اس خبر کی صداقت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں کہ” اردو زبان دنیا کی اگیارہویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ اس کے علاوہ 2011 کے سنسس کے مطابق ہندوستان میں ساتویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔جسے اپنانے والی آٹھ کروڑ عوام صرف ہندوستان میں ہے۔“(DECCAN Chronicle. jan 20 /2019)

لیکن لمحہءفکریہ یہ ہے کہ اس میں ادب سے دلچسپی رکھنے والے چند ہزار ہی ہیں اور فعال چند سو ہیں اور مخلص گنتی کے چند لوگ ۔۔۔ ایسا صرف اس لئے ہے کہ اردو صرف ایک خاص طبقے تک سمٹ گئی ہے جس میں چند نے فیشن کے طور پر،چند نے نام و نمود کی خاطر اور چند نے مجبوری کے تحت اردو کو اپنا رکھا ہے ۔اور ان وجوہات کی تحت جڑنے والے اردو سے مخلص نہیں ہو سکتے ۔بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اردو سے کسی فائدے کے لئے نہیں بلکہ زبان کی ترویج کے لئے جڑے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی سطح پر کچھ نہ کچھ ایسا کر رہے ہیں کہ اس سے زبان پھلے اور پھولے۔ اس کوشش میں ایک نئی نسل آگے آئی ہے ۔۔۔ جو بہت خوش آئیند بات ہے ،جس میں چند مخلص نوجوانوں کے علاوہ بے حد خوبصورت ذہن رکھنے والی ذہین لڑکیاں سامنے آئی ہیں اور اردو سے محبت کی ایک نئی فضا سازگار کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں ۔ ابھی آسمان ادب پر جگمگانے والے یہ ستارے کل کے آفتاب اور ماہتاب ہونگے۔اور ویسے بھی گہری تاریکی کو امید کی ایک ہلکی سی رمق ہی دور کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے ۔ اور ان نا مساعد حالات میں دیدبان نکالتے رہنا ہماری وہی چھوٹی سی امیدہے ، اور ہمیں خوشی ہے کہ اس کی روشنی کو بڑھانے والے ہاتھ بڑھ رہے ہیں ۔

”مزاحمتی ادب نمبر“پر تیسری جلد کی تزئین و ترتیب کاکا م شروع ہو چکا ہے ۔ انشاءاللہ یہ زخیم شمارہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ 2019 میں آپکے ہاتھ میں ہوگا ۔جیسا کہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ اسے خاص بنانے کے لئے اس موضوع پر اہم لوگوں کی رائے اور ان کا نظریہ کسی نہ کسی شکل میں اس میں شامل کیا جائیگا۔وہ انٹرویو ، آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں ہمارے سامنے ہوگا۔مگر تھوڑی سی ترمیم یہ کی گئی ہے کہ یہ اہم انٹرویو پہلے کتابی شکل میں سامنے آجائے تب اسے آن لائین برقی جریدے کا حصہ بنایا جائیگا۔

اس سلسلے میں ایک اہم اعلان اور بھی ہے کہ دیدبان کے برقی جریدے میں شامل وہ مضامین جو پہلے کہیں شائع ہو چکے ہیں یا اس موضوع سے مطابقت نہیں رکھتے، انہیں دیدبان مزاحمتی ادب نمبر میں جگہ نہیں دی جائیگی بلکہ مزاحمتی ادب پر تازہ ترین معیاری مضامین کو کتاب آنے سے پہلے دیدبان کی ای میل آئی ڈی پر بھیجا جائے تو اسے کتاب میں ضرور شامل کیا جائیگا۔ابھی مضامین بھیجنے کے لئے دو ماہ کا وقت ہے۔ آپ سے استدعا ہے کہ اسے وقیع بنانے میں اپنا حصہ ادا کریں۔

دیدبان آن لائین شمارہ اب تک ہر قاری کے لئے فری ہے ۔ اس کے قارئین سے استدعا ہے کہ اس پر اپنی کتابوں ، اشیاءیا کسی بھی بزنس کا اشتہار ڈلوائیں۔ بہت معمولی اجرت کے ساتھ تاکہ اس سلسلے کو زندہ رکھنے میں آپ کی مدد بھی شامل ہو جائے۔ یہ شمارہ پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے ممکن ہے آپ کی ایک ادنی ٰسی کوشش آپکی محنت کو دور دور تک پہنچانے کا ذریعہ بنے ۔ خاص کر کتابیں صحیح قارئین تک پہنچ سکیں۔ اور ہماری اس بے لوث اور غیر منافع بخش کاوش میں آپ کی شرکت کچھ بہتری کی صورت پیدا کرے۔

دیدبان کی ہارڈ کاپی خرید کر پڑھیں کہ اس میں صرف ہماری محنت نہیں سرمایہ بھی لگا ہے ۔ اور سرمایہ اگر واپس نہ آئے تو اس کاوش کو زندہ رکھنا محال ہوگا۔

اسی کے ساتھ اپنی بات ختم کرتی ہوں۔ مزاحمتی ادب نمبر کی تزئیں و ترتیب کا کام شروع ہو چکا ہے ۔ اب بھی وقت ہے اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔

خیر اندیش

نسترن

Ayub Khawar's poem

To My Own Demise

O! My demise,

Alter your route,

Dislodge yourself from my heart,

Walk alongside but be at arm’s length.

O! My demise,

I have yet to perform obligations

More significant than you are,

Which I have been sent for;

Go away to trample the desires of someone else,

For I don’t have any spare time,

Come some other day to see me,

I may approach you

Before the day you approach me,

But now leave me alone,

I don’t have any space in my heart

To accommodate you.

Leave the veins of my heart,

Walk alongside but at distance

Even away from my shadow,

Rather walk afar ahead,

At this moment of union,

Devour some other wasteland,

Beneath the roasting desert of my eyes,

There are hidden rains of thirst,

Crinkles of time,

Un-budded buds,

And unstitched dreams,

They are impatient to be molded.

In the grittiness of sand,

Potential of growing green had always been there,

Possibilities exist even now my dear,

Though you are an alternate of sustenance

A chamber of mirrors for the hearts of lovers

In the desert of pains and pangs,

You’re like a piece of melody.

But!

Look at me!

I am,

With my hands, feet,

With the branches of lashes,

Smouldering hearth of the chest,

And with the streams of breath,

Entangled futile thorns of this whore of life

Like wild vortexes.

O! My demise,

You bear with traits of terror

Between beginning and the end,

On the impression less steps of being or not being,

I have been tumbling,

Sliding, gliding and sometimes halting,

Like a shred of flesh,

Remain echoing

In the blindness of some unreflecting mirror.

At present I don’t have leisure,

My abyss is yet at distance from me.

AYUB kHAWAR

.................

.................

....................

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form