(ترجمہ) عقیلہ منصور جادون

فرانز کافکا کا تعارف ،اور اس کے مشہور زمانہ ناول دی ٹرائل کی تلخیص اور تجزیہ

۔

کافکا 1883 میں پراگ موجودہ چیکوسلواکیہ میں ایک عام یہودی خاندان میں پیدا ہؤا باپ سخت گیر تھا ۔پدرانہ حاکمیت(Paternal authority)اس وقت کا سماجی دستوربھی تھا ۔

ماں کی طرف سے ہٹ دھرمی،حساسیت،انصاف پسندی اور طبیعت میں بےچینی و بےقراری وراثت میں ملے تھے

سیاسی افق پر “پراگ ( جائے پیدائش) آسٹرو ہنگیرین شہنشاہیت / Austria-Hungaria Empireکا حصہ تھی۔جو کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد قومی ریاستوں میں تقسیم ہونے جا رہی تھی۔شمال میں جرمنی کا اثر و رسوخ بہت زیادہ بڑھ رہا تھا ۔

کافکا18 سال کی عمر میں پراگ یونیورسٹی میں داخل ہوا ،قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔

فرانز کافکا بچپن سے ہی کتابوں کا رسیا تھا ۔ یونیورسٹی کی پڑھائی کے دوران وہ جرمن سٹوڈنٹس یونین کا ممبر رہا ۔اسی عرصے میں اس کی ملاقات اس وقت کے مایہ ناز لوگوں سے ہوئی ۔ جن میں آسکر پولاک، آسکر بون ، فیلکس ویلش، ولی ہوس ،ہیو گو برگ مین اور مشہور شاعر فرانز ور فیل وغیرہ شامل تھے۔اسی زمانے میں وہ “ The good soldier Schweitzer’s”ناول کے مصنف Jaroslane Hasek سےبھی ۔ملا

البرٹ آئن سٹائن جو پراگ یونیورسٹی میں تب لیکچرار تھا سے بھی ملاقات کا موقع کافکا کو ملا ۔

کافکا کو ڈاکٹر روڈلف سٹینر سے بھی ملنے کا موقع ملا جو تھیو سوفی کا بڑا حمایتی تھا

کافکا نے اپنے آپ سے عہد کر لیا تھا کہ وہ اپنی ادبی صلاحیتوں کو آمدن کا زریعہ نہیں بنائے گا ۔ جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے وقت کی کمی کا شکار رہا

1911 سے1912 کے بعد اس کی پہلی مختصر کہانیوں کا مجموعہ “ “استغراق/Meditation”کے عنوان سے منظر عام پر آیا

کافکا فطرطن تنہا ئی پسند تھا ۔وہ عمومن اکیلا پراگ کے پارکوں میں دکھائی دیتا تھا ۔ تاھم اگر کوئی دوست ایسے میں اسکی تنہائی میں مخل ہوتا تو وہ برا بھی نہیں مناتا تھا۔لیکن وہ اپنی ذات پر گفتگو کرنا پسند نہیں کرتا تھآ۔

کافکا جب 31سال کا تھا تو جنگ عظیم اوّل شروع ہو گئی تب اس نے والدین کا گھر چھوڑ کر خود مختار زندگی کا آغاز کیا

اپنی 1914 کی لکھی گئی ڈائری میں وہ جنگ کے حوالے سے لکھتا ہے

“میں اپنے اندر لڑنے والوں کے لئے تنگ دلی رشک اور نفرت کے جز بات محسوس کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ان کے ساتھ برا ہو “

جون 1914 میں کافکا کی ملاقات برلن کی ایک خاتون Bauer” سے ہوئی ان کی منگنی ہو گئی جو 1917 میں ٹوٹ گئی پھر وہ Julie Wohryzekسے منسوب ہوا ۔اور جب اس سے تعلق ٹوٹا تو وہ Milena Jesenská سے جو ایک چیک جرنلسٹ تھی سے خطو کتابت کرنے لگا ۔جس نے کافکا کی کہانیوں کا جرمن سے چیک زبان میں ترجمعہ کیا۔

کافکا کی زندگی مین آنے والی آخری خاتون Dora Diamant تھی جس نے کافکا کی زندگی کے آخری مہینوں میں اس کی خدمت کی

41سال کی عمر میں کافکا کیرلنگ سینی ٹوریم میں تپ دق T.B کے مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا ۔ اسے پراگ کے یہودی قبرستان میں دفنایا گیا ۔وہ مرتے وقت کوئی مشہور انسان نہیں تھا۔ اسکی زیادہ تر تخلیقات اس کے مرنے کے بعد اس گے دوست نے اسکی وصیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شائع کیں

کافکا کی تین بہنوں کو دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن کیمپس میں مار دیا گیا

کہا جاتا ہے کہ اس حادثے کی پیشن گوئی اس نے اپنی زندگی میں کر دی ۔تھی

مقدمہ، آزمائش، امتحان - The Trial

مصنف فرانز کافکا

تجزیہ ل

ناول کے مصنف سے تعارف کروانے کے بعد ،اب میں چاہتی ہوں کہ ناول کے واقعات بھی مختصر

۔ ترین لفظوں میں بیان کر دوں

یہ ناول جوزف کے نامی ایک شخص کی کہانی ہے ۔جس کو ایک جھوٹے الزام کے سلسلے میں بظاہر انتہائی پیچیدہ عدالتی نظام سے واسطہ پڑتا ہے

کہانی کچھ ایسے شروع ہوتی ہے کہ ایک صبح جب ھیرو سو کر اٹھتا ہے تو کچھ لوگ اس کی رہائش گاہ پر موجود ہوتے ہیں جو اسے بتاتے ہیں کہ اسے گرفتار کیا جاتا ہے ناول کی ابتداءً ہی اتنی مضحکہ خیز صورتحال سے ہوتی ہے۔

1-جس الزام میں ملزم کو گرفتار کیا جاتا ہے اس کی نوعیت سے ملزم کو آگاہ نہیں کیا جاتا۔اور نہ ہی مرتے دم تک اسے پتہ چل سکا کہ وہ کس جرم میں مارا جا رہا ہے ۔

2-بوقت گرفتاری نہ تو کوئی وارنٹ کسی عدالت سے جاری کردہ ملزم کو دکھائے گئے

حد تو یہ ہے کہ کرفتاری بھی بس رسمی ہے ۔ملزم کو اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات جاری رکھنے کی اجازت ہے ۔ وہ معمول کے مطابق اپنے بینک جہاں وہ سینئر کلرک ہے جا سکتا ہے ۔

جب ملزم اس شخص سے جسے انسپکٹر کہا جا رہا ہے سے پوچھتا ہے کہ ۱اس پر الزام کس نے لگایا ہے ؟

ان الزامات پر کاروائی کرنے والی اتھارٹی ( حکام) کون ہیے

کیا آپ لوگ عدالتی افسران ہیں؟اگر ہیں تو آپ سب نے کوئی یونیفارم کیوں نہیں پہنا ہوا؟

تو انسپکٹر اسے صرف جو کچھ اس کے ساتھ ہونے جا رہا ہے اسپر توجہ مرکوز کرنے کی نصیحت کرتا ہے ۔

پورے مقدمے کے دوران جو ایک سال کے عرصے پر محیط ہے اسے صرف ایک بار مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کا موقع ملا ۔مجسٹریٹ نے ملزم سے صرف اتنا کہا کہ “ تم گھروں میں پینٹ کرنے والے ہو “

جس پر ھیرو/ ملزم نے وضاحت کی وہ ایک بینک میں کام کرتا ہے ۔اور یہ کہ اس کے خلاف پینٹر سمجھنے کی غلط فہمی میں مقدمہ قائم کیا جا رہا ہے ۔یہ ملزم کی کسی بھی عدالت میں پہلی اور آخری پیشی ہے ۔ اس کے بعد ملزم کو مزید کسی انکوائری یا پیشی کا نوٹس نہیں ملتا۔ لیکن ملزم کے خلاف نامعلوم طریقے سے مقدمہ بننے کو پھیلایا جاتا ہے کہ ملزم آزاد گھومنے پھرنے کے باوجود مسلسل ہراسا ں رہتا ہے

کچھ عرصے بعد ملزم / ھیرو کا انکل گاؤں سے مقدمہ کی بابت سن کر ملزم کے پاس آتا ہے اور اسے زبردستی اپنے دوست وکیل کے پاس لے جاتا ہے ۔ وکیل ججز اور عدالتی افس سے اپنے تعلقات کے بارے میں بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے ۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وہ بھی ملزم سے مقدمہ کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں لیتا ۔ھیرو یہاں وکیل سے زیادہ اسکی ملازمہ میں دلچسپی لیتا ہے۔

وکیل مقرر کرنے کے باوجود مقدمہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی ۔ ملزم ہر وقت زہنی پریشانی میں مبتلا رہتا ہے جس کی وجہ سے اس کی بینک میں کار کریگی متاثر ہوتی ہے ۔اس پریشان کن حالات میں اسے بینک کا ایک مؤکل ایک پینٹر کے پاس جانے کا مشورہ دیتا ہے جو ججوں اور عدالتی افسران کے پورٹریٹ بناتا ہے ۔ پینٹر بھی اسے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اس کی یقین دہانی کرواتا ہے ۔مقدمہ میں کاروائی میں التوا اور پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال ملزم کے حواس پر چھائی رہتی ہے ۔ اس زہنی کیفیت میں وہ اپنے وکیل کو فارغ کر کے اپنا دفاع خود کرنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔لیکن اس کا اسے موقع ہی نہیں ملتا ۔ای ک سال کا عرصہ بیت چکا ہے ، اچانک اسے اطلاع ملتی ہے کہ اس کے مقدمہ کا فیصلہ اس کے خلاف ہو چکا ہے ۔ اسے مجرم قرار دیا جا چکا ہے اور اسے انتہائی بے رحم طریقے سے اسکے سینے میں چاقو گھونپ کر مار دیا جاتا ہے ا

یہاں تک ناول نگار ایک اچھے ادیب کی طرح اپنے معاشرے اور عدالتی نظام کے بخئیے ادھڑنے کے ساتھ ملزم کی نفسیاتی اور زہنی کشمکش اور مختلف کرداروں کو بڑھے خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے

لیکن یہ سب پڑھنے کے دوران میں مسلسل یہی سوچتی رہی کہ یہ سب کچھ ہی مصنف کا مقصد نہیں ہو سکتا۔

علامتی ادب کا بادشاہ آخر کہنا کیا چاہتا ہے ۔اسی کشمکش میں ناول کے نویں باب “ دی کیتھیڈرل/گرجا گھر پر پہنچی تو میں حیرتوں کے سمندر میں غوتے کھانے لگی ۔ علامتی ادب کا بادشاہ اپنی پوری شان و شوکت اور جا ہ و جلال کے ساتھ میرے سامنے موجود تھا۔

گرجا گھر / کیتھیڈرل

اگر ناول میں نواں باب نہ ہوتا اور ناول ہیرو کی موت گے ساتھ ختم ہو جاتا تو پھر بات سیدھی اور صاف تھی

لیکن نویں باب کی موجودگی ناول کے سارے مفہوم کو بدل دیتی ہے ۔تجزیہ شروع کرنے سے پہلے مختصرا نواں باب پیش کرتی ہو ں

بینک کی جانب سے ہیرو / ملزم کو ایک غیر ملکی مؤکل کو شہر کی سیاحت کرانے کا فریضہ سونپا جاتا ہے ۔ بروز اتوار شہر کے سب سے بڑے گرجاگھر میں صبح دس بجے ملاقات طے ہوتی ہے ۔ لیکن جب ملزم وہاں پہنچتا ہے تو اس کا مؤکل وہاں موجود نہیں ہوتا ۔ موسم اپنا رنگ بدلنا شروع کر دیتا ہے ۔ گرجاگھر کی ویرانی کے ساتھ ساتھ بڑھتی تاریکی ماحول کو پراسرار بنا رہی ہے ۔ ایسے میں پادری نمودار ہو تا ہے ،ہیرو واپسی کے ارادے سے دروازے کی طرف مڑتا ہے لیکن پادری کی آواز جو اسے نام لے کر پکارتا ہے ۔اس کے بڑھتے قدم رک جاتے ہیں ۔ پادری ہیرو سے اس کے مقدمے کے بارے میں پوچھ کر اسے حیران کر دیتا ہے ۔ پادری اپنا تعارف کرواتا ہے کہ وہ جیل کا پادری ہے ۔ ملزم پادری کو اپنی معصومیت اور عدالتی کاروائی کا اپنے خلاف متعصبانہ روئے کے بارے میں بتانے کی کوشش کرتا ہے جس پر پادری اسے بتاتا ہے کہ ملزم واقعات مقدمہ کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے اور یہ کہ وہ عدالت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہے ۔

پادری مزید اسے بتاتا ہے کہ ہمارے مسودہ قانون کے دیباچے میں اس غلط فہمی کو ایک تمثیل سے وا ضح کیا گیا ہے

آخری تجزئے سے پہلے نویں باب کی روح تمثیل کو سمجھنا ضروری ہے

تمثیل

لاء / انصاف / قانون کے دروازے کے سامنے ایک پہریدار کھڑا ہے ۔ اس کے پاس ایک دیہاتی آتا ہے اور دروازے سے اندر جانے کی اجازت طلب کرتا ہے تاکہ وہ قانون و انصاف تک رسائی حاصل کر سکے ۔

پہریدار اسے کہتا ہے

“وہ اس وقت اسے داخلے کی اجازت نہیں دے سکتا “

دیہاتی کچھ سوچ کر پوچھتا ہے

“تو کیا بعد میں اسے داخلے کی اجازت ہو گی “

“یہ ممکن ہے” ۔پہریدار کا جواب تھا “لیکن اس وقت نہیں “

چونکہ دروازہ کھلا تھا ۔پہریدار بھی ایک طرف ہٹ گیا تھا ،چنانچہ دیہاتی نے جھک کر اندر جھانکنے کی کوشش کی ۔

یہ دیکھ کر پہریدار ہنستے ہوے اسے کہتا ہے کہ اگر اسکی اتنی شدید خواہش ہے تو میری اجازت کے بغیر اندر جانے کی کوشش کرو ۔ لیکن یہ یاد رکھنا کہ میں بہت طاقت ور ہوں ۔ آگے ہر دروازے پر الگ الگ پہریدار موجود ہیں ۔جو ایک دوسرے سے زیادہ طاقتور ہیں ۔

دیہاتی کو قانون/ انصاف تک رسائی میں اتنی مشکلات کی توقع نہیں تھی ۔ اس کا خیال تھا کہ ہر شخص ہر وقت قانون تک پہنچ سکتا ہے ۔وہ انتظار کرنے کا سوچتا ہے ۔ پہریدار اسے دروازے کے ایک طرف سٹول پر بیٹھنے کی اجازت دے دیتا ہے۔

وہاں وہ دنوں بلکہ سالوں بیٹھا انتظار کرتا ہے اس دوران بار ہا داخلے کی اجازت مانگتا ہے اسکی یہ مستقل مزاجی پہریدار کو تھکا دیتی ہے ۔ دیہاتی جو زاد راہ لایا تھا وقتن فوقتا اس میں سے پہریدار کو رام کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ دیتا رہتا ہے ۔پہریدار اس سے یہ تحائف یہ کہ کر قبول کرتا رہتا ہی کہ کہیں تمہیں یہ افسوس نہ ہو کہ تم نے اپنی پوری کوشش نہیں کی ۔

آخر کار دیہاتی کی آنکھوں کی روشنی مدھم پڑنا شروع ہو جاتی ہے ۔اسے سمجھ نہیں آتی کہ آیا دنیا میں تاریکی پھیل رہی ہی یا اسکی آنکھیں اسے دھوکہ دے رہی ہیں ۔

لیکن اس تاریکی میں بھی اسے دروازے سے باہر آتی ہوئی ایسی چمکدار روشنی نظر آتی ہے جو بجھائی نہیں جا سکتی ۔

اب اسکی زندگی کا چراغ گل ہونے کے قریب ہے ۔اس نے یہاں اپنے قیام کےدور ان جو سیکھا وہ ایک سوال کی صورت اس کے دماغ میں ابھرا ۔ تو اس نے پہریدار سے پوچھا ۔

“ہر شخص اپنی زندگی میں انصاف / سچائی کے حصول کی کوشش کرتا ہے ،پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ میرے علاوہ آج تک کوئی اور اس دروا زے پر نہیں آیا؟

پہریدار سمجھ گیا کہ دیہاتی کا آخری وقت آ پہنچا ہے ۔ اس نے جواب دیا

“ یہ دروازہ صرف اور صرف تمہارے لئے مخصوص تھا ۔ تمہارے علاوہ اس میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا ۔ اب میں اسے بند کرنے لگا ہوں “

اپنے ظاہری مفہوم میں ناول بلکل واضح ہے ۔لیکن نویں باب میں جو تمثیل شامل کی گئی ہے اور جو فلسفیانہ بحث پادری اور ہیرو کے درمیان ہوئی اسے پڑھنے کے بعد تو یہی پتہ چلتا ہے کہ ناول کا عنوا ن “دی ٹرائیل “ بھی استعارہ ہے ۔

ظاہری معنی تو مقدمہ کے ہیں لیکن اصل معنی آزمائش ،امتحان ، Trial to seek justice/ حق و انصاف کے حصول کی کوشش ہیں اس سے مراد زندگی بزات خود آزمائش اور امتحان ہے

مصنف جب پادری سے کہلواتا ہے

“انسان کی زندگی کے بہت سارے سال جو اسے زندگی کی بلوغت تک پہنچنے میں لگتے ہیں وہ محض رسمی ہوتے ہیں ۔اسے جواب دہ انسان بننے کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ انسانی زندگی میں خواطر خواہ حصہ ڈالنے کے لئے آدمی کی آزادانہ خواہش ضروری ہے ۔ اسی طرح اس عمل میں حصہ نہ ڈالنا بھی اس کی آزادانہ مرضی پر منحصر ہے “

دنیا ایک سٹیج ہے جس میں انسان جس کی نمائندگی ناول میں ہیرو کر رہا ہے ،حق و انصاف اور سچائی کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ اس راستے پر اس کو بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہے جس کی نمائندگی پہریدار کر رہا ہے ۔اور پہریدار ناول میں ناقص قانونی نظام ہے

دنیا میں رائج قانونی ،عدالتی نظاموں میں کہیں بھی نہ تو مکمل شہنشاہیت میں اور نہ فوجی ڈکٹیٹر شپ میں ایسا نظام ملتا ہے جیسا ناول میں دکھایا گیا ہے ۔ ناول میں سرے سے کوئی مقدم ہے ہی نہیں ماسوائے مقدمہ کے خوف کے

یہی خوف انسان کے اندر حقیقی زندگی میں ہر وقت موجود رہتا ہے

اور جب وہ اسے دور کرنے کے لئے سچائی کی تلاش میں پڑتا ہے تو اس دیہاتی کی طرح پہلی ہی رکاوٹ پر بے بس ہو کے بیٹھ جاتا ہے ۔

پھر انسان کو اس رستے پر چلنے سے ہٹانے کے لئے عوامل خود اس کی فطرت میں موجود ہیں ،جیسے نفس کی غلامی جس میں مبتلا ہو کر ہیرو بار بار عورتوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اسکی توجہ مقدمہ سے ہٹتی رہتی ہے ۔

بنیادی طور پر انسان سہل پسند ہے ۔ اس رستے پر چلنے کے لئے پہریدار کا طاقتور ہونا اور بقیعہ پہریداروں کا خوف اس میں خود اعتمادی کا فقدان ظاہر کرتی ہے

بجاۓ پہریدار کا اشارہ سمجھتے ہوے بغیر اجازت اندر داخل ہو جاتا اور جو مشکلات آتی انکا ڈٹ کے مقابلہ کرتا دیہاتی پہریدار کو ر پنے زاد راہ سے رشوت دے کر رام کرنے کی کوشش کرتا ہے

بلکل اسی طرح ناول کا ہیرو کبھی وکیل کبھی پینٹر آل غرض مختلف ذرائع سے اثر و رسوخ سے فیصلہ اپنے حق میں کروانے کی کوشش کرتا ہے ۔

پادری اسے کہتا ہے “تم نے بیرونی مدد پر بہت انحصار کیا”

یہی حال حقیقی زندگی میں انسان کا ہے ۔ بجائے اپنے اوپر اعتماد کر کے سچائی کے رستے کی مشکلات خود دور کرے وہ بیرونی عوامل پر انحصار کرتا ہے اور ہمیشہ شاکی رہتا ہے ۔

پادری ہیرو سے کہتا ہے

“تم کبھی مطمئن نہیں ہو سکتے”

اور پھر جب انسان بڑھاپے۔ میں قدم رکھتا ہے ۔ جب اسکی دنیاوی خواہشا ت کم ہوتی ہیں ۔ جب زندگی کے تجربات اسے بیرونی زندگی سے لاتعلق کرتے ہیں اپنے اندر پر توجہ دینے کا موقع ملتا ہے تب اسے سچائی کی وہ روشنی نظر آنے لگتی ہے جو دیہاتی کو مرنے سے پہلے قانون کے دروازے سے آتی ہوئی نظر آتی ہے اور وہ سوال جو اسے بہت پہلے پہریدار سے پوچھنا چاہئے تھا اب پوچھتا ہے ۔

مصنف کے نزدیک انسانی زندگی۔ محض ناکامی کے۔ سوا کچھ نہیں

۔

گرجا گھر کی علامت ،ماحول کی ؤیرانی دن ہوتے ہوے اتنی تارکی کہ ہیرو کو راستہ نہیں ملتا اور وہ مدد کے لئے پادری کو آوازیں دیتا ہے ۔سب کچھ واضح کر رہا ہے

آخر میں ہیرو کا مقدمہ میں سزائے موت کو زہنی طور پر تسلیم کرنا اور مرنے کے لئے تیار ہو جانا۔ انسان کی ناکام جدوجہد اور اس کے نتیجے کو تسلیم کر کے مر جانا ظاہر کر رہا ہے ۔

Aqila Mansoor jadoon

Advocate at Self-Employed and works at Former Visiting Lecturer, faculty of law at International Islamic University Islamabad and Represented Pakistan in Sudan at International Muslim Women Conference

Past: Muslim Law College, Rawalpindi and Punjab Law College Rawalpindi

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form