دیدبان شمارہ ١١

 افسانہ : ٹینٹالس کا مخمصہ  #

تحریر : قاضی ظفراقبال

ٹھوڑی تک پانی میں کھڑے کھڑے صدیاں بیت گئی ہیں۔ مگر اُس کا جسم آج بھی اُسی طرح پیاسا ہے جیسے پہلے دن تھا۔۔۔ کاش وہ مرجائے۔۔۔ہاں مرجائے۔۔۔ انتظار کیے بغیر۔۔۔ ایک لمحہ انتظار کیے بغیر۔۔۔ مگر موت بھی تو خواہش کی تابع اور اپنے بس میں نہیں۔ پیاس کے مارے اُس کی زبان سوکھ کر کانٹا ہو گئی ہے۔ اُس نے گھونٹ بھر پانی پینے کی پھر کوشش کی ہے۔ مگر گردن جھکاتے ہی پانی کی سطح اتر گئی ہے۔اُس کی زبان کانٹا اور اُس کے ہونٹ خشک کے خشک رہ گئے ہیں۔ بھوک سے اُس کا جی نکلا جارہا ہے۔۔۔وہ چاہے تو ہاتھ بڑھا کر سر کے عین اُوپر جھولتی ٹہنی سے سیب توڑ کر کھا سکتا ہے۔ اور اُس نے ہاتھ بڑھایا بھی مگر اب کے پھر ہوا کے جھونکے نے اُس کے کیے کرائے پر پانی پھیردیا ہے۔ شاخ پر جھولتے دونوں سیب اپنی ٹہنی سمیت اس کی دسترس سے باہر ہوگئے ہیں۔ اُس نے اولمپس کی مقدس چوٹیوں کی طرف ملتجی نگاہوں سے دیکھا اور چیخ چیخ کر رب الارباب کی دُہائی دی۔ زیوس۔۔۔زیوس۔۔۔ زی۔۔اُو س۔۔۔۔۔اور اُس کی آواز آپ سے آپ اُس کے حلق کی غلام گردش میں گھٹ کر رہ گئی۔

مگر آج تو اُس نے فیصلہ کرہی لیا تھا کہ وہ اپنی پیاس ضرور بجھائے گا اور اپنے شکم کی بھوک۔۔۔یہ بھوک اُسے صدیوں سے لگی ہوئی تھی۔۔۔یہ پیاس صدیوں کی پیاس تھی۔۔۔ اس نے ہولے سے کواڑ کھولے اور کمرے میں داخل ہوگیا۔۔یہ ایک سجا سجایا کمرہ تھا۔ سامنے کی دیوار پر کسی لینڈا سکیپ کی خوبصورت تصویر آویزاں تھی۔تصویرمیں سرسبز و شاداب کنجِ گلزار میں بلندی سے گرتا ہُوا آبشار۔۔۔ ہری ہری گھاس کے خوبصورت قطعے اور شجر ہائے سایہ دار و ثمربار۔۔۔ منظر ایسا کہ شادابی روح میں اُترنے لگے۔۔۔ کمرے کی کھڑکیوں اور دریچوں پر اطلسی پردے۔۔ فرش پر دیوار تا دیوار قالین اور خوبصورت پلنگ، ایک کونے میں مصنوعی پھولوں کا ایک بڑا سا گلدان۔۔اُس کی جورو خاصی سلیقہ شعار تھی اور اُس نے کمرے کو خوب سجارکھا تھا۔ کمرے میں ملگجا سا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اُس نے بستر پر لیٹی ہوئی جورو پر اچٹتی سی نگہ ڈالی اور پلنگ پر بیٹھ گیا۔

اُس کی شادی کو پانچ سال بیت چکے تھے۔ یہ پانچ سال اس نے پانچ صدیوں کی طرح کاٹے تھے۔ اُس کے دوست ریاض کی شادی اُس سے ایک سال پہلے ہوئی تھی۔ ریاض اُس کا گہرا دوست اور رازدان تھا۔ دونوں دوست ایک دوسرے سے کچھ نہیں چھپاتے تھے۔۔۔ریاض کی بات اُسے اب بھی یاد تھی کہ شادی تو جُوا ہے۔ نردیں سیدھی پڑ جائیں تو پوبارہ ورنہ تین کانے۔ قسمت ساتھ دے تو ٹھیک ورنہ زندگی بھرکا دردِ سر۔۔۔

اُس نے سوچا کہ اُسے تو بیاہ کا اتنا شوق بھی نہیں تھا۔ اسے تو اپنی بوڑھی ماں کے مسلسل اصرار کے سامنے جھکنا پڑا تھا اور اس نے ایک سعادت مند بیٹے کی طرح ایجاب و قبول کرلیا تھا۔ مگر اسے چند روز بعد ہی احساس ہوگیا تھا کہ ریاض کی بات سچ ہے۔ یہ واقعی جوئے کا کھیل ہے۔ اس نے کھیل میں جی لگانے کی بہت کوشش کی۔ مگر کھیل کے لیے پتے بھی تو ہاتھ میں ہوں۔اُس کے  پاس تو  ایک ’یکہ‘ بھی نہ تھا ۔ مگر جواری بہت رجائی ہوتا ہے۔۔وہ ہر مرتبہ پتوں کو الٹنے سے پہلے سوچتا ہے کہ ”ٹریل“ ہے اور اگر نہیں تو ”راؤنڈ“ تو ضرور ہوگا مگر پانچ،تین،آٹھ دیکھ کر مایوس ہونے کی بجائے وہ اگلی باری کے لیے پھر سے تیار ہوجاتا ہے۔ جب اُس کی جیب خالی ہوجاتی ہے تو وہ کھیل پر تین حرف بھیجتا ہُوا گھر کی جانب لوٹ جاتا ہے مگر اس کی رجائیت پسندی اور لالچ اسے اگلے روز پھر جوئے خانے میں لا ڈالتے ہیں۔ اگر وہ یہ عہد کر ہی لے کہ آئندہ وہ جوئے کا یہ کھیل نہیں کھیلے گا تو بھی ہم جلیسوں کے طعنے کب پیچھا چھوڑتے ہیں۔۔۔”بھاگ گئے بزدل کہیں کے۔۔۔بڑا آیا حاجی مکّے کا۔۔۔اماں یار پیسہ تو ہاتھ کا میل ہوتا ہے۔۔۔جوڑ جاڑ کے کونسا ہرن مینار تعمیر کرلے گا“ وغیرہ وغیرہ۔

اُس نے دل ہی دل میں کئی بار سوچا بھی کہ کیوں نہ جورو کو تین طلاق کہہ کر میکے بھجوا دے اور جوئے کے اس کھیل سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کنارہ کش ہو جائے مگر پھر اُسے بوڑھی ماں کا خیال آجاتا کہ اس کی آرزوؤں کے سارے بنے بنائے محل زمیں بوس ہوجائیں گے۔ پھر اُسے سنبھالنے والا بھی تو کوئی نہیں تھا۔بیٹی تھی نہیں اور خاوند بھی اللہ کے حوالے ہو چکا تھا و ہ شوگر اور بلڈ پریشر کی پُرانی مریضہ بھی تھی اور اُس کا فشارِ خون ہمیشہ اعتدال کی حدوں کو توڑتا رہتا تھا۔۔۔اُس نے بلڈپریشر جانچنے کا آلہ گھر میں رکھا ہوا تھا جب وہ آلے کا سٹریپ ماں کے بازو پر چسپاں کرکے ربڑ کی گیند کو بار بار دبا کر ہوا بھرتا تو گھڑی کی سوئی بتدریج حرکت کرنے لگتی اور پھر ٹھیک اس مقام پر پہنچ جاتی جہاں فشارِ خون کا درست اندازہ ہوجاتا۔۔۔جب وہ ربڑ کی گیند کو ہاتھ سے بار بار دباتا تو ایک عجیب سا ارتعاش اُس کے اپنے رگ و پے میں اترتا محسوس ہوتا۔۔اُس نے کئی بار سوچا کہ اگر دستی آلے کی بجائے کوئی خودکار آلہ ہوتا تو کیا وہ اُس عجیب سے ارتعاش سے محروم نہ رہ جاتا۔۔اور پھر کچھ عرصے کے بعد اس کے ایک دوست نے جو ولایت سے آیا تھا اسے ایک ڈیجیٹل آلہ فشارِ خون جانچنے کا تحفتاً دیا تو اُسے محسوس ہوا کہ وہ اُس عجیب سے ارتعاش سے واقعی  محروم ہوگیا ہے۔چنانچہ اُس نے ڈیجیٹل آلے کو سنبھال کر الماری میں رکھ دیا۔ میڈیکل انجنئرنگ کی اِس ترقی کے باوجود اُسے پرانا دستی آلہ ہی زیادہ کار آمد معلوم ہوتا تھا۔

جورو کو طلاق دینے کا  سیدھا سادا مطلب یہ تھا کہ اُس کی بوڑھی ماں کی بیماری اور بھی شدت اختیار کرجاتی اور پھر غیر یقینی حالت کسی بھی نا خوشگوار نتیجے پر پہنچ سکتی تھی۔اُسے یہ سوچ کر اپنے آپ سے نفرت سی ہونے لگی کیوں کہ اُسے اپنی ماں سے شدید محبت تھی اور پھر اڑوس پڑوس کے طعنے بھی تو اُسے کب کسی فیصلے پر پہنچنے دے رہے تھے۔۔چنانچہ وہ ارادے باندھ باندھ کر توڑتا رہتا۔ابھی چند روز اُدھر کا ذکر ہے کہ پڑوس میں رہنے والی سلیمن  بُوا نے اپنے پان خوردہ کتھئی دانت نکوستے ہوئے ماں سے کہا تھا کہ اے بہن کسی حکیم سے مشورہ کیا کیا؟ اور ہاں نگوڑی زینب کو تو تم جانتی ہی ہو۔۔۔ وہی جس کے میاں کا منہ آم چُسی گٹھلی جیسا ہے۔ ابھی دس مہینے ہی توشادی کو ہوئے ہیں کہ گود میں بلونگڑا سا لیے بیٹھی ہے۔ میری مانو تو تم بھی کریم بابا سے تعویذ منگوالو۔ بڑے کرنی والے بزرگ ہیں، کیا خبر کب اُدھر کا اشارہ ہوجائے اور ہاں دھاگا پھنکوا کر چرخے پر سات اُلٹے چکر دے کر بہو کے پیڑو پر باندھنا نہ بھولنا اور ماں ٹھوڑی کے سوراخ میں سفیدپونی جیسی انگلی گُھماتے ہوئے تعجب سے کہتی نا نا بہن یہ تم کیا اناپ شناپ کہے جا رہی ہو،  زینب وہی نا جو منشی جی کی بہو ہے۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن شادی کو نہیں ہوئے اور بچہ لیے بیٹھی ہے گود میں! اے کہیں تمہارا سر تو نہیں چکرا گیا!۔۔۔ نابہن مرا سر کیوں چکرانے لگا،ابھی پرسوں ہی تو لڈو آئے تھے منشی جی کی طرف سے،سلیمن بُوا نے بڑی متانت سے جواب دیا۔

اور وہ بڑے ہی رجائیت پسند جواری کی طرح چرخے کے الٹے چکروں والے تعویذ پی پی کر ہرن مینار تعمیر کرنے کے لیے جوئے خانے میں داخل ہوجاتا۔  مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔۔۔ وہ سوچتا کہ ہرن مینار بھی کیا عظیم تعمیر ہے کہ وہ  بغیر کسی مناسب نگہداشت کے سینکڑوں سالوں سے کھڑا ہے۔ اپنی پوری رفعت کے ساتھ۔۔۔ پوری متانت کے ساتھ اور پھر وہ تالاب میں کھڑی بارہ دری کو گھورنا شروع کردیتا جو منہ پھاڑے اس کی طرف تک رہی ہوتی۔اُس کی ایک ایک اینٹ اور ان بجھے چونے کا مسالا اُسے عجیب سی سوچ میں مبتلا کر دیتے۔ اسے یوں لگتا  جیسے  بارہ دری کے کُھلے منہ سے قہقہہ سا بلند ہوا ہو  اور وہ  ہرن مینار کے  سرے تک پہنچ کر فضا میں تحلیل ہو گیا ہو۔ وہ جھنجھلا جاتا۔ اُس کا جی چاہتا کہ کاش  بارہ دری کی ایک ایک اینٹ چرچرا تالاب میں گر جائے اور ان بجھے چونے پر پانی کے گرنے سے سنسناہٹ سی پیدا ہوجائے

”اماں کا سر درد سے پھٹا جارہا ہے“۔۔۔ جورو کی آواز نے اُس کے خیالات کا تسلسل توڑ دیا، وہ اٹھا اور قریبی الماری سے فشارِ خون  جانچنے کا  آلہ اٹھا کر تیزی سے ماں کے کمرے میں داخل ہُوا۔ آلہ اُسکی کلائی پر باندھا مگر اُس کی تسلی نہ ہوئی۔ اُس نے ڈیجیٹل آ لہ ایک طرف رکھتے ہوئے دستی آ لہ اٹھایا اور اُس کے سٹریپ کو ماں کے بازو پر لپیٹ کر ربڑ کی گیند میں ہَوا بھرنے لگا۔فشارِ خون جانچنے کے بعد اُس نے جورو کی طرف دیکھا، وہ اشارے کو سمجھ چکی تھی۔ اُس نے ماں کو ایسے دوا کھلانا شروع کردی جیسے وہ کوئی ٹرینڈ قسم کی نرس ہو۔

وہ اپنے کمرے میں پھر سے لوٹ آیا تھا۔۔۔ اُس نے خیالوں کو وہیں سے جوڑنے کی پھر سے کوشش کی جہاں سے وہ ٹوٹے تھے۔۔۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد محفل پھر سے جم گئی۔۔۔ اُسے یاد آیا کہ ایک مرتبہ ا با جب گھر میں کورا گھڑا خرید کر لائے تھے اور ماں نے جب  اسے قابلِ استعمال بنانے کے لیے پانی میں بھگونا شروع کیا تھا تو اُس کورے گھڑے نے کیسے”سن سن“ کرنا شروع کردیا تھا۔ اس نے سوچا کہ ”سن سن“ کی اس آواز میں کوئی ایسی نامحسوس سی لذت ضرور تھی جو اس کے رگ و پے میں اتر گئی تھی۔۔۔ اب پھر سے ہرن مینار اور بارہ دری کی دھندلی سی شباہت اس کے ذہن میں اجاگر ہورہی تھی۔

اُس نے پھر سے سوچنا شروع کردیا کہ اگر واقعی بارہ دری ڈھے کر تالاب میں گر جائے تو اُس میں سے بھی ”سن سن“کی ویسی ہی آواز پیدا ہوگی جیسے کہ کورے گھڑے پرپانی کے گرنے سے ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اُسے یوں لگا جیسے بارہ دری دھڑام سے  ڈھے گئی ہے اور تالاب کی سطح پر بلبلے سے تیرنے شروع ہوگئے ہیں،وہ خیالات میں اتناکھویا ہُوا تھا کہ اُسے پتا ہی نہ چلا کہ کب سے اُس کی جورو آکر اس کے قریب ہی پلنگ پر دراز ہو چکی ہے۔ اُس نے ایک سرسری سی نظر جورو پر ڈالی اور پھرسے اپنے خیالوں میں کھو گیا۔ اُسے یاد آیا کہ وہ بچپن میں جب صابن ملا پانی پیالی میں ڈال کر گندم کی نال منہ سے لگائے اُس میں پھونک مارتا تھا تو پیالی چمکتے رنگین بلبلوں سے بھرجایا کرتی تھی۔

اُس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔ اُس کی نظر کا سفر جورو کے پاؤں سے اُس کے سر کی جانب جاری تھا۔ ابھی اُس کی نظر اُس کے سینے تک ہی پہنچی تھی جو باریک دوپٹے سے ڈھکا ہُوا تھا اور سانس کی آمد و شد سے اُس میں ہلکا سا ارتعاش پیدا ہورہا تھا اور اُس کی بوجھل سانسیں بتلا رہی تھیں کہ وہ نیند کے عمل سے گزرنے ہی والی ہے۔ اُس کی نظریں آپ سے آپ دیوار پر لگے  ہوئے  لینڈ اسکیپ پر مرکوز ہوگئیں۔ سرسبز و شاداب کنجِ گلزار میں بلندی سے گرتا ہُوا آبشار۔ ہری ہری گھاس کے خوبصورت قطعے، شجرہائے سایہ دار اور سیبوں سے لدی  پھندی جھولتی ہوئی شاخِ ثمر بار۔۔۔میوہ ہائے تازہ کی خوشبو اُس کے نتھنوں میں گھسی جارہی تھی۔۔۔ بھوک سے اُس کا جی نکلا جارہا تھا اور اس نے ہاتھ بڑھایا بھی مگر سیب ٹہنی سمیت اُس کی دسترس سے باہر ہوگئے۔۔۔ اسے لگا کہ وہ پانی میں جوں کا توں کھڑا ہے اور بارہ دری نے پھر سے ایک زوردار قہقہہ لگایا ہے۔

اُس کی شدید خوا ہش تھی کہ بارہ دری کی ایک ایک اینٹ چر چرا کر تالاب میں گرجائے اور ان بجھے چونے پر پانی کے گرنے سے سنسناہٹ سی پیدا ہوجائے۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔ پھونکوں کے زور سے گندم کی نال ٹوٹ گئی مگر صابن ملے پانی میں بلبلے سے پیدا نہ ہوئے۔۔۔اس کا دماغ سوچ سوچ کر تھک چکا تھا اور ایک بار پھر ہاتھ میں پانچ،تین، آٹھ دیکھ کر وہ جُوئے کے کھیل پر تین حرف بھیجتا ہوا نڈھال ہوکر بستر پر ڈھے گیا۔

وہ بہت تھک چکا تھا۔۔۔ اس نے اچانک ہاتھ سے گردن کو چھوکر دیکھا تواُسے یوں لگا جیسے وہ دہک رہی ہے۔۔۔اُس کا پورا جسم دہک رہا تھا۔۔اُس نے لیٹے لیٹے خود اپنے جسم پر نگہ کی جو اُسے کورے گھڑے کی مانند لگا۔ جس پر پانی کے گرنے سے سنسناہٹ سی پیدا ہوجاتی ہے۔۔۔پاس لیٹی ہوئی جورو اب کے گہری نیند سوچکی تھی۔

 اُس کے لبوں پر خفیف سی معنی خیز مسکراہٹ جاگ اٹھی۔ اور ذہن میں موم بتی سی روشن ہوگئی۔۔۔

کورے گھڑے نے ہاتھ بڑھا کر بجلی کا سوِچ اَوَف کردیا اور دبے پاؤں واش روم میں داخل ہوگیا۔

٭٭٭

Tantalus #

قاضی ظفر اقبال

قاضی ظفر اقبال 1944 میں موضع شام نگر امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد اٹاری شام سنگھ میں سکول ٹیچر تھے۔ تقسیم کے بعد عارف والا میں ریائش اختیار کی۔ پنجابی اور اردو میں ایم اے کیا اور کالج میں لیکچرر مقررر ہوئےمختلف ادبی جرائد میں 1959 سے تاحال باقاعدگی سے لکھ رہے ہیں

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form