تاؤ اور گِٹھو

March 29, 2020
دیدبان شمارہ 11StoryStory

دیدبان شمارہ 11

الطاف فاطمہ کا غیر مطبوعہ افسانہ

تاؤ اور گِٹھو

گٹِھوکا قد بمشکل دوڈھائی فٹ بنتا تھایا شاید کوئی ایک آدھا انچ نکلتا ہواہو۔یہی صورتِ احوال تاؤ کی بھی بنتی تھی۔ البتہ تاؤ کے احوال پر مستزاد ایک عدد ٹھیک ٹھاک کُبھ بھی تھا جس کے بوجھ تلے یااپنے احوال پر شرمندہ شرمندہ سا یوں جھکا جھکا تلے تلے دیکھتا ہوا چلتا تھا کہ جیسے وہ اپنے اس حال کی شرمندگی کے مارے دھرتی کے اندر دھنس جانا چاہتا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ دیکھنے والوں کو ایسا لگتا ہو مگر تاؤ کو اپنی ذات، شخصیت اور ساخت میں کوئی کمی یا سقم نظر نہ آتا۔ وہ تو اپنے آپ کو ٹھیک ٹھاک بندہ ہی سمجھتا تھا۔

کچھ ایسا ہی رویہ گٹِھوکا اپنی ذات اور قدوقامت کے بارے میں شروع سے رہا کہ اس کا اپنی کوتاہ قامتی پر کوئی معذرت خواہانہ رویہ کبھی نہ رہا۔ نہ اُس کو اِس بات کی کبھی پرواہ ہوئی کہ لوگ اُس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ لوگوں کو ان دونوں کی ذات پر سخت اعتراض تھا۔ وہ نہ صرف ان کو عجیب عجیب نظروں سے دیکھتے بلکہ ان دونوں سے ایسی پرخاش رکھتے گویا آدم کا پہلا پہلا دانہئ گندم والا گناہ ان ہی دونوں سے سرزد ہوا ہو اور بے چارے آدم و حوا کے توفضول ہی سر لگا دیا گیا ہو۔

گٹِھو اور تاؤ کا آپس میں کیا رشتہ اور کیا تعلق تھا، تو یہ تو سوال ہی فضول ہے کہ رشتے کسی خونی یا صلبی رشتوں سے ماورا ہو کر مخصوص حالات اور مزاجوں کی یکسانیت سے بھی بنتے ہیں اور بڑے استوار ہوتے ہیں۔ ایک جیسے حالات اور حادثات کی بنا پر رنگ ونسل کے علاوہ طبقاتی اور سماجی امتیازات سے بے نیاز ہوکر بنتے اور قائم رہتے ہیں۔ سو گٹِھواور تاؤ کا بھی ایسا ہی معاملہ تھا بلکہ جب تک وہ گوردر اسپور میں تھے تو کوئی ایسا لگاؤ یا میل جول کا رشتہ بھی نہ تھا بلکہ ایک محلے کے کوچے کی ایک گلی کے پہلے اور آخری نکڑ پر واقع گھروں میں بسنے والے دو انسانوں کے درمیان آتے جاتے مڈھ بھیڑ پر سلامت یا خیر خیریت تک کی بات ہی تھی۔گٹِھو کے باپ کی محلے کے بازار میں منیاری کی دکان تھی۔ اچھی خاصی، خوب چلتی تھی۔گٹِھو نے تین جماعتیں پڑھنے کے بعد سکول جانے سے انکار کیا۔ انکار پر باپ کے ہاتھوں مار بھی کھائی۔ پھر بھی اَڑ کر بیٹھ گیا۔ ایک نہ، ہزار نہ بن گئی۔ بات تو کوئی نہ تھی بس اپنی جماعت کے علاوہ سکول کے دوسرے لڑکے بھی چھیڑتے تھے۔ کسی طرح اُن کے کان میں بھنک پڑ گئی کہ اس کے گھر والے اس کو گٹِھو کے نام سے پکارتے ہیں۔ایک تو وہ چڑ بنائی، پھر فٹ بال یا لمبی دوڑوں سے لے کر گلی ڈنڈے اور کبڈی کے میدان میں پیر ڈالنے نہ دیتے۔ ”اوئے او گٹِھو، اوئے، گٹِھو۔“ سیٹیاں بجنے لگتیں۔ اونچے اونچے لمبے لمبے ہندو، سکھوں اور پٹھانوں کے لڑکے تو اس کو فٹ بال کو ہاتھ لگاتے بھی دیکھ لیتے تو طرح طرح کی آوازیں اور بڑھکیں لگا کر اور سیٹیاں بجا بجا کر ایسا دہلا دیتے کہ وہ گراؤنڈ جانے کے خیال ہی سے لرزکر رہ جاتا۔ سو وہ باپ کے ہاتھوں اور پنکھے کی ڈنڈی کی مار کھاکر اپنے آنسو اندر ہی اندر پیتا رہا۔ وہ تو ابے کو یہ بھی نہ بتا سکا کہ لڑکے تو لڑکے اس کے تو ماسٹر صاب، ایک نہیں سارے، بڑی حقارت سے گٹِھو ہی کہہ کہہ کر پکارتے ہیں۔ جب وہ لڑکوں سے کوئی سوال پوچھتے ہیں تو وہ کتنا ہی ہاتھ لمکا لمکا کر اچھل اچھل اپنی جگہ پر کھڑا ہو کر جواب دینا چاہتا ہے، پر وہ آنکھ اٹھا کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھتے۔کبھی اس کے سوال چیک نہیں کرتے۔ اور جب کلاس میں رولا مچتا ہے تو ماسٹر جی کا پہلا بید اس پر پڑتا ہے۔ اس کی ایک چپ، ہزار چپ دیکھ کر باپ نے زچ ہو کر اپنے ساتھ دکان پر بٹھا لیا۔ چلو چھٹی ہوئی...پر کہاں...چھٹی تو یہاں بھی نہ تھی۔ کوئی کوئی گاہک ایسا آتا جو اس کو دیکھ دیکھ کر منہ بناتا اور فقرے بازی کرنا نہ چھوڑتا۔ پھر وہ انتقاماً کبھی اس کے سودے کی تول میں ڈنڈی مار دیتا۔ کبھی نمک کی بجائے پھٹکری کی پُڑی تھما دیتا۔ جو بھی ہو، اس کی زندگی کی گاڑی چل پڑی۔

اب تاؤ کا یہ تھا کہ وہ تو باسو کمیار کا بیٹا تھا۔ سب بچوں میں بڑا اور اس حلیے کا تو پھر وہ اس کو سکول تو نہیں ڈال سکتا تھا، اپنے چاک پر ہی بٹھا لیا۔ ایک بار مسجد کے قاری صاحب نے ٹوکا، ”باسو! اس کو قرآن پڑھنے کو تو بٹھا دیتا۔مسجد بھیج دیا کر۔“ تو اس نے اس کی طرف بڑی حقارت سے دیکھ کر کہا تھا،”یہ کیا قرآن پڑھے گا۔یہ تو رب سوہنے نے ڈنگر مار دیا ہے میرے متھے، سو اپنے بھاگ کی لیکھ نباہ رہا ہو ں۔ اپنے ایمان کی کہو،اس سے اچھا تو ڈگڈگی پر ناچنے والا بندر ہے، اپنی ٹانگوں پر سیدھا ہو کر تو چلتا ہے۔“اپنے منہ در منہ باپ کو ایسی بات منہ سے نکالتے سن کر وہ ٹوٹ کر ایسا کرچ کرچ ہو گیا، جیسے اس کے اپنے ہاتھ کا گھڑا ہوا بھانڈا ٹوٹ کر بکھر گیا ہو۔ کتنی ہی دیر اس کا کاریگر ہاتھ چلتے چاک پر رکے کار کا رہ گیا تھا۔ اس دن اس نے روٹی کی ڈلیا بھی ویسی کی ویسی واپس کر دی تھی۔ اس کی ماں نے پلٹ کر یہ بھی نہ پوچھا، ”پتر روٹی کادے واسطے نہ کھائی؟“ وہ اس کی بے اعتنائی کا عادی تھا۔سمجھتا تھا، وہ ماں کے کس کام کا ہے جو وہ اس کی فکر کرتی رہے۔اس سے دو سال بڑا کب کا سکول کی پانچ جماعتیں پڑھ کر ڈرائیوری کا لیسن(لائسنس) لے بیٹھا ہے۔ جموں کٹھوعہ روڈ تک لاری لے جانے لگے گا۔ ماں تو اس کے رشتے کی بات بھی طے کر رہی ہے۔ تیسرا بھی ایک دو سال میں کھڑا ہو جائے گا۔ پر میں تو اسی چاک پر بیٹھا بیٹھا دنیا سے گزر جاؤں گا۔ پھر ایسا ہو اکہ اسی چاک پر بیٹھا بیٹھا وہ کُبے سے تاؤ بن گیا۔ پہلے تو گھر باہر میں اس کو کُبھے ہی کے نام سے پکارا جاتا تھا مگر دوسرے نمبر کے دونوں کے بچوں نے اسے تاؤ بنا دیا اور پھر وہ اسی نام سے جانا جانے لگا۔ وہ خوش تھا کہ کچھ تو سٹیٹس بڑھا۔

رہ گیا گٹِھو، تو اس کی بات دوسری تھی۔ اس کی شخصیت میں صرف ایک ہی سُقم اور کمی تھی۔ اس کی بے قامتی، جس کا اسے کوئی گلہ نہ تھا، نہ ہی اس کے لیے کوئی معذرت خواہانہ رویہ رکھتا۔ سبب اس کا یہ تھا کہ قدوقامت کی کوتاہی کے سوا اس کا باقی سراپا ٹھیک ٹھاک اور متناسب تھا۔ رنگ کھلتا ہوا گندمی، ناک نقشے سے درست، معتبر چہرے پر گھنی گھنی مونچھوں سمیت وہ قطعی نامناسب یا بے جا نظر نہیں آتا تھا۔ ویسے بھی طبیعت میں رکھ رکھاؤ اور حلیمی تھی۔ شروع شروع میں تو والدین نے اس کی بے قامتی کا خاصا برُا منایا۔ پھر رفتہ رفتہ عادت سی ہونے لگی۔ اب ان کا رویہ اس کی طرف کچھ ایسا ہی رہا کہ”چلو ہمارا کیا لیتا ہے۔دو روٹی ہی کا تو خرچہ ہے۔گھر میں بلی کتا بھی گھس آئے، پل ہی جاتا ہے۔“ پھر یہ ہوا کہ جب باپ نے محسوس کیا کہ اس نے دکان تو خاصے ڈھنگ سے سنبھال لی ہے تو پھر بیوی بچے بھی سنبھال ہی لے جائے گا۔ ایک آدھ بار اپنے احساس کا اظہار اس نے زبان سے بھی کیا۔ گٹِھو کے کان میں یہ بات پڑی تو اس کے اندر جیسے لڈو پھوٹنے لگے۔ شہنائیاں بجنے لگیں۔ سوچ میں اپنا اعتبار بڑھ گیا، ویسے بھی وہ اپنے آپ کو ٹھیک ٹھاک بندہ جانتا تھا۔

----------------

ماؤں کا تو یہ ہے کہ ان کو تو ہر وقت ایک ہی شوق، ایک ہی ارمان ہوتا ہے، بیٹوں کو، اور اگر بیٹے نہ ہوں یا پہلے بیاہ چکے ہوں تو پھر کسی نہ کسی بہانے باربار سہرے گھوڑے لگانے کا۔ ان کے تو گھر میں بندر بھی پلا ہو گا تو اس کے بھی بیاہ کی فکر میں نیندیں اُڑا بیٹھیں گی۔سوگٹِھوکے باپ کے منہ سے دو بول نکلتے ہی اس کی بے جی بھی کمر کَس کے بہو کی تلاش میں نکل پڑی۔ کتنے ہی گھروں سے بُرے بُرے منہ بنا کر جواب ملا تو کیا کہ ”تمہارا بیٹا تو اس کی کمر تک بھی نہیں آئے گا۔“ پر اپنے بچوں کے معاملے میں مائیں نہ حقیقت پسند ہوتی ہیں نہ ہتھیار ڈالتی ہیں۔ سو وہ بھی اَڑ گئی۔ضد پر اتر آئی۔

اس لڑکی کی ماں کے منہ پر کہہ کر گئی، ”ٹھیک ہے،اب اس کی بھی لمبی اور صورت دار لڑکی لا کر تمہیں دکھا دوں گی۔“ اُس نے یہ بات اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہی تھی۔

حاجی غفور کی تینوں بیٹیاں قدوقامت سے درست، ناک نقشے اوررنگ و روپ کے اعتبار سے صورت دار تھیں۔البتہ چھوٹی جمال آراء عرف جمو اپنی پیدائش سے کچھ قبل پڑنے والے سورج گہن سے مار کھا گئی تھی۔اس کا بایاں پیر اپنے درست مقام سے مڑ کر دائیں طرف گھوم گیا تھا اور اسی مناسبت سے دائیں طرف کی آنکھ میں بھی ٹیڑھ آگئی تھی۔ ویسے باقی شکل وصورت، رنگ و روپ اور قد وقامت نے اس دکھاوے میں توازن پیدا کر دیا تھا۔ کہنے کو تو مردوں کے خیال میں عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں، پر اپنے بچوں کے رشتوں اور کنبے ناتوں کے جوڑ توڑ میں عقل مند سے بھی کچھ زیادہ ہی شاطر ہوتی ہیں۔ سو گٹِھوکی ماں نے دو تین لڑکیوں کے گھروں سے جواب سن کر اب اس بات کو اپنی انا اور ذات کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ اس کا دھیان فوری طور پر حاجی غفور کے گھرانے اور اس کی رنگ روپ والی لڑکیوں کی طرف گیا اور جمال آراء اس کی ٹارگٹ بن گئی۔

وہ اپنی گلی سے تیسری گلی کے چوبارے والے پکے مکان کے صحن میں جا کھڑی ہوئی۔ حاجی غفور کی بیوی اس کی آواز سن کر اس کے استقبال کے لیے سامنے آئی تو اس نے وہیں کھڑے کھڑے اپنا مدعا ڈال دیا۔ وہ بے چاری حاجی صاحب کی بیگم ہولائی خبطی سی،بہت سیدھی سادی عورت، جمو کے جسمانی نقائص پر سدا گھبرائی بوکھلائی اور شرمندہ سی رہا کرتی تھی۔ یوں کہ دو لڑکیوں کے رشتے تو تیار تھے بلکہ اگلے آکر تاریخیں بھی لے گئے تھے۔ سو اس نے جمال آراء عرف جمو پر ایک شرمندہ سی نظر ڈالی تو یہ احساس ہوا کہ یہ تو اپنی دونوں بہنوں سے قد بت میں کچھ اوپر ہی دکھائی دیتی ہے اور اس کی عمر بھی کون سی کم ہے،دونوں بڑیوں سے ایک دو سال ہی کا توفرق ہے۔سوچا اور بوکھلا کر ہاں کر بیٹھی۔ یہ بھی تو نہ کہا کہ اس کے باپ سے صلاح کرکے جواب دوں گی۔یہ تو قدرت کے بنائے جوڑے بنتے ہیں۔ جب اوپر والے ہی نے میری فکر دیکھ کر یہ کرم کردیا تو میں کیوں ٹال مٹول کروں۔

جمال آراء عرف جمو کو تو یہ خبر ہی نہ ہوئی کہ اس کی رخصتی کی تاریخ دونوں بہنوں کے ساتھ ہی پڑگئی ہے۔ سب کچھ ایک دم ہی طے ہو گیا اور جب اس کی ہولائی خبطی ماں نے اس فکر کااظہار کیا کہ اس کی تو تیاری ہی کوئی نہیں تو گٹِھو کی ماں نے یہ کہہ کر تسلی کرادی۔ ”اس کی تو تم فکر ہی نہ کرو۔بس تاریخ دے دو، ہمیں کچھ نہیں لینا۔ ہاں دینا ہے،سو بہت کچھ دیں گے۔“ لو جی سب کچھ اتنی آسانی سے طے پا گیا کہ ان تاریخوں میں حاجی صاحب کے گھر تین براتیں چڑھیں۔ تین دلہے سہرے گھوڑے لے کر آئے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک جارہا تھا، پر رخصتی سے کچھ دیر پہلے جمو کی ایک سہیلی نے اس کے دلہے کے بارے میں ہنس ہنس کر ایسی فقرے بازی کی کہ وہ تو گھونگھٹ میں اسی وقت سے گھٹ کر رہ گئی۔

شادی کے چار ہی تو دن ہوتے ہیں۔ مہندی، نکاح،رخصتی اور ولیمہ۔پھر تو وہی کولہو کے بیل والا معاملہ۔ دیکھتے دیکھتے گٹِھو دو خوب صورت اور قد قامت ناک نقشے سے درست بچوں کا باپ بھی بن گیا۔ بچوں کو دیکھتا تو لگتا کہ اس کا اپنا قد بھی کئی فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ماں باپ کی خوشی اور اطمینان تو لازمی ہی تھا۔ البتہ جمال آراء کے دل کی بات کون جانتا، جبکہ عام برتاؤ لے اور دیکھنے میں وہ ٹھیک ٹھاک چل رہی تھی۔

جہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہوتا ہے تو پھر نیا پواڑا بھی تو آپڑتا ہے۔ایک گٹِھو کا گھر کیا، سارا گورداسپور ہی ٹھیک ٹھاک جارہا تھا۔ سب ہی جانتے تھے کہ پاکستان کو جائے گا۔ پر نہ جانے رب کی کیا بھاؤ نا بنی کہ وہ پاکستان جانے کی بجائے انڈیا کو ہی چلا گیا۔ اور بھئی گٹِھو کیا، اس جیسے بہتوں کو تو اس کی فکر بھی نہ تھی۔ چلو مرضی جہاں چاہے رہے پہلے بھی تو... اس جیسے کتنوں کے سوچتے سوچتے کہ کیا فرق پڑتا ہے، پر ایسا فرق پڑا، ایسافرق پڑا کہ جس کا بیان کرتے اس کی زبان لرز جاتی۔ وہ تھا بھی کم سخن۔ کا ہے کا بیان، بیان تو وہ کرتے ہیں جن پر پڑتی نہیں اور جن پر پڑتی ہے وہ تو حیران ہی رہ جاتے ہیں۔ زبان کو کیلیں لگ جاتی ہیں اور پھر بیان بھی کیا کرتا، اس نے دیکھا ہی کیا تھا۔ بس اپنے گھر سے باہر نکلتے شعلوں کی سُرخ لال زبانیں اور اوپر اٹھتا ہوا دھواں ہی تو دیکھا اور بس۔اُسے ہوش اُس وقت آیا جب پاکستان سے آنے والی کانوائے کے ٹرک میں بے سدھ پڑے پڑے کسی کے لرزتے ہاتھوں نے اس کے پیاس سے تڑختے لبوں کو کھول کر پانی کے دو گھونٹ منہ میں ڈالے۔ دھیرے دھیرے پانی کے چندگھونٹ حلق سے نیچے اترنے کے بعد بھی اس نے کچھ دیر بعد بمشکل آنکھیں کھولیں تو بدقت بڑی کمزور سی آواز منہ سے نکلی۔ ”تاؤ توں...؟“آواز میں حیرت اور بے یقینی تھی۔ ”ہاں گٹِھو!میں۔ ہن تو چپ کر کے پیا رہ۔“ چپ کر کے پڑا رہنے کے سوا کر بھی کیا سکتا تھا۔ سو چپ کر کے ننھی سی گٹھڑی بنا پڑا رہا، یا شاید پھر بے ہوشی طاری ہوگئی یا غنودگی آگئی۔

گٹِھو کی دوبارہ آنکھ اس وقت کھلی تھی جب ٹرک میں بھیڑ بکریوں کی طرح خستہ و درماندہ گلوں سے ایک بار ہی اللہ اکبر کا نعرہ اس طرح بلند ہوا کہ کوئی کہہ نہ سکتا تھا کہ یہ صدا کئی دنوں کے بھوکے پیاسے اور ہراساں گلوں سے نکلی ہے۔ جب کانوائے لانے والے فوجیوں نے بتایا کہ ہم اب پاکستان کی زمین پر آگئے ہیں، کانوائے رکوا کر محزون دلوں اور پژمردہ چہرے والوں نے اتر اتر کر اپنی پناہ دینے والی دھرتی پر اپنی پُرشوق جبینوں کو سجدہ ریز کیا۔ پر گٹِھو اور تاؤ اپنے نمانے وجود لیے، اسی طرح ٹرک کے ایک کونے میں دبکے رہے۔

پھرٹرک تو جموں کٹھوعہ کے پناہ گیروں کو ایک کیمپ پر اتار کر آگے بڑھ گیا۔ ان کو تو ہوش ہی نہ تھا کہ اترتے یا کوئی تو ٹھکانہ پکڑتے۔ بھوک پیاس اور بے کسی کے شدید احساس ہی کے مارے، دبے کچلے نہ جانے کس طرح ایک بار ہی ہوش میں آئے تو پتہ چلا کہ والٹن کے کیمپ آپہنچے ہیں۔یہ بھی نہیں سمجھ میں آیا کہ یہ والٹن کہاں ہے۔کون سا شہر ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ واپس اُدھر ہی چلے گئے۔ اتنے بھی کم عقل نہ تھے پر فرطِ رنج ومحن سے بدحواس ہورہے تھے۔آخر تیسرے دن سب کچھ واضح ہو گیا۔ ”اچھا تو ہم پاکستان کے لاہور میں ہیں۔“

پر لاہور تو بڑا شہر ہے۔ اس کی تو بڑی مشہوری سن رکھی تھی۔ہر طرف آنکھیں پھاڑ کر دیکھتے، پر اپنا کوئی نظر نہ آیا۔ کیا جانے مر کھپ گئے کہ وہیں گھر کے اندر جل کر راکھ ہوئے۔ اتنا سوچ کر بھی آنکھ سے ایک بوند نہ ٹپکی۔ صبرکی ایک بھاری سِل تھی کہ چھاتی پر آدھری تھی۔

پناہ گیروں کی ایک کھیپ سے جب کسی کیمپ کی گنجائش ختم ہونے لگتی تو ان کے کوائف رجسٹر ہوتے۔ ان حالات میں جس حد تک ہو سکتا تھا ان کی رہائش اور گزر بسر کا بندوبست کیا جاتا جسے کیمپ کی اصطلاح میں سیٹلمنٹ کہاجاتا۔ رجسٹر ہاتھ میں پکڑے ایک نوجوان رضاکار اِن دونمانے، کُبڑے، گٹھے انسان نما عجوبوں کے قریب آیا کہ ان دونوں نے تو اُٹھ کر اس کے قریب جا کر اپنے کوائف لکھوانے کی ضرورت ہی نہ سمجھی تھی۔ وہ اس کو یوں بِٹ بِٹ دیکھتے رہے جیسے پوچھتے ہوں، ”اچھا تو تم نے ہم کوبھی اس لائق سمجھا کہ ہمارے کوائف بھی رجسٹر ہونے چاہئیں؟“ نام، ولدیت،رہائش جیسے سوالوں سے گزرتے گزرتے جب سوال کیا، تو آپ کیا کام کیا کرتے تھے؟ تو تاؤ جس نے اپنا نام تاؤ ہی لکھوا یا تھا اور کرتا بھی کیا، کیا کُبا لکھواتا کہ ماں باپ نے تو اس کو کوئی نام ہی نہیں دیا تھا۔ وہ تو اسے کُبا کہہ کر ہی کام چلاتے تھے۔ ”ہاں تو تاؤ صاحب، آپ وہاں کام کیا کرتے تھے؟“یہ سوال کرتے وقت افسردہ صورت رضا کار جو خود بھی تنہا ہی کیمپ میں بطور پناہ گیر رجسٹر ہوا تھا، زیر لب مسکرایا تھا۔

”میں جی! میں تو ابے کے چاک پر بیٹھتا تھا۔“

”تو پھر تو آپ کو چاک ہی پر بیٹھنا ہو گا۔“

”نا جی ہن کی بیٹھنا، میں نمانا ڈنگر ورگا، مجھے مٹی کون لا کر دے گا۔ بھانڈے خالی چاک پر بیٹھ کر تو نہیں بنتے۔بھانڈے بنتے ہیں مٹی سے،مٹی کے بھانڈے پر،اوہ بھی چاہنے پکنے کو پھر بھانڈے کو بازار ہاٹ بھی دکھانا ہوتا ہے۔ یہ سب تو ابا اور دونوں بھائی کرتے تھے۔“ یہ کہتے ہوئے بھی آنکھ سے آنسو نہ گرا۔

پوچھا، ”تو اب وہ کدھر ہیں؟“ تو وہ اپنی ٹیڑھی گردن اس کی طرف پھیر کربیٹھ گیا اور الٹا اس سے پوچھنے لگا، ”تم بتاؤ، کہاں ہوں گے؟ اپنے رجسٹر میں دیکھو، پتہ کرو؟“

گٹِھو کے جوابات بھی اسی قسم کے تھے جو اس نے خالی آنکھوں اور خشک لبوں سے دئیے۔ بولتے بولتے چپ ہوا، آسمان کی طرف دیکھا اور منہ ہی منہ میں اتنا کہا، ”گھر کی اَور گیا تو آگ سی بھڑکتی دیکھی۔ پھر میں کہاں تھا، مینوں سدھ آئی تو کیمپ میں تھا۔“

پناہ گیروں کی نئی کھیپ پہنچنے والی تھی۔ اس کے پہنچنے سے پہلے پچھلی آبادی کے سیٹلمنٹ کا بندوبست شروع ہوا۔ ان کے دئیے ہوئے کوائف، رہائش، متروکہ اراضی، مکان دکان کی تفصیل اور اندراجات کی روشنی میں ان کے کلیم کے کاغذات کے مطابق مختلف چکوں اور بستیوں کی طرف ٹرکوں میں بھربھر کر روانہ کیا جارہا تھا۔ تو گٹِھواور تاؤ نے کہیں جانے سے انکار کردیا۔

”بس جی ہمیں کہاں جانا، ادھر ہی پڑا رہنے دو۔“ دو چار دن اور کیمپ کی روٹیاں کھائیں۔ جسموں میں جان پڑی تو ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے کیمپ سے باہر نکلنے لگے۔

والٹن کے ساتھ ہی تو گوپال نگر کی بستی تھی۔ اس سے کچھ آگے جا کر بھا بڑے کا علاقہ آجاتا تھا۔ انہیں تو یہ بھی خبر نہ تھی کہ ان علاقوں میں نام کیا ہیں، بس اتنا پتہ تھا کہ سارے کا سارا لہو ر ہی ہے۔ اُدھر ہی کسی تھاں کو پکڑ کر بیٹھے، آسمان کی طرف منہ ا ٹھااٹھا کر دیکھتے، آدھا آدھا دن گزر جاتا۔ کھانے پینے کی فکر یوں نہ تھی کہ ان دنوں رب سوہنے نے لاہور والوں کے دلوں میں اِن بن بلائے مہمانوں کے لیے ایسی مامتا ڈال دی تھی کہ جس طرح بچہ مانگے نہ مانگے، ماں اس کی خبر گیری کو مستعد رہتی ہے،وہ جہاں بھی بیٹھے ہوتے بن مانگے ہی لوگ روٹی پانی سے خاطریں کرتے رہے کہ جیسے اپنے ہوں۔ ہاں تو پھر اپنے ہی تو تھے...نہ کوئی پوچھتا نہ کچھ بتاتے۔ وہ تو آپس میں بات چیت نہ کرتے، کیا بات کرتے۔ گٹِھو کے دل میں ہوک اٹھتی، ماں پیو، گھر والی، بچے اور دونوں بھائی جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ کوئی خواب دیکھا ہو جیسے۔ کبھی کبھی بیٹھا بیٹھا آپ ہی آپ بولنے لگتا، ”لو بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ کرپانیں چلیں، بلم، بھالیں اُٹھے۔ بھاگوانوں کو ماؤں کی کوکھ میں چھپے بچے تو نظر آگئے،پر میں نمانا ان کو نظر نہ آیا۔ مینو کادے واسطے...“ آواز گلے میں اٹکی تو تاؤ نے بات پوری کر دی۔ ”ظلم جو ہوا۔یہی توظلم ہوتا ہے۔“ صبح سے شام اسی طرح کرتے۔ ایک روز نہ جانے جی میں کیا آئی۔ ماڈل ٹاؤن سے چلنے والی بس جس کا ایک سٹاپ بھا بڑے پر تھا، اسی سٹاپ سے اُٹھے اور بس میں جاگھسے۔ ظاہر ہے کنڈکٹرنے کیا اعتراض کرنا تھا، روز دیکھتا تھا، دونوں پناہ گیر سارا سارا دن اِدھر ہی آسمان کی طرف منہ اُٹھائے بیٹھتے ہیں۔ ایک پھیرے آتا تو ان کو اسی طرح بیٹھے دیکھتا بلکہ اس نے تو ان کے لیے جگہ بنوا کر اپنے قریب والی سیٹ پر بٹھا یا اور سوال کیا، کس سٹاپ تک جانا ہے۔ چپ منہ اٹھائے اس کی طرف دیکھتے رہے۔ یہاں تک کہ پلازا کا سٹاپ آگیا۔ سینما پر لگنے والی فلم کے اشتہاروں پر نظر پڑی۔ نہ جانے جی میں کیا آئی کہ پلازا کے سٹاپ پر ہی اتر پڑے۔ دن ڈھل رہا تھا۔ شام اُتر رہی تھی۔کچھ دیر اشتہار وں کے سامنے کھڑے انگریزی فلم کے اداکاروں کے تروتازہ چہروں کو تکتے رہے اور یہی سوچتے رہے، ہم سے تو یہی اچھے رہے، نہ گھر جلے نہ بندے گم ہوئے۔

اب اس تفصیل میں کیا جانا کہ پلازا تک پہنچنے کے بعد ان کی آباد کاری کا انتظام کیسے ہوا اور کس نے کیا۔ مطلب یہ کہ تقدیر شاید اسی مقصد کے لیے ان کو یہاں تک کھینچ لائی تھی۔ پلازا کے بازو میں جو ایک ویران اور کھنڈر سا میدان پڑا تھا جس کے اس طرف دربار اور دربار بھی کس کا بلھے شاہ کے استاد شاہ عنایت کا۔ اسی کے پچھواڑے ایک قدیم سی عمارت کے کھنڈر کے باقیات میں ایک زمین دوز کوٹھڑی اور اس کے ساتھ ایک مختصر سا دالان کا حصہ جو ڈھینے سے بچ رہا تھا، اس کی قدامت اور شکستگی کااندازہ دالان کی بچی کھچی چھت یعنی اس کی شہتیریوں اور بالوں کی بوسیدگی اور بے رنگی سے کیا جاسکتا تھا۔ کوٹھڑی زمین کے اندر اس حد تک دھنسی تھی کہ اس کے دروازے کا جو حصہ نظر آتا تھا، تاؤ کبھ کی وجہ سے بہ وقت ٹیڑھا ہو کر کوٹھڑی کے اندر جا سکتا تھا۔ گٹِھو البتہ اپنے گھٹے پن کی وجہ سے قدرے جھک کر ہی اندر داخل ہو سکتا تھا۔ دالان کے باقی ماندہ حصے کی چھت لکڑی کی تھی۔

سو دربار کے پچھواڑے یہی تاؤ اور گٹِھو کا آشیانہ ٹھہرا۔ادھر ان کی آباد کاری ازخود ہوئی اور اس سے پرے ہٹ کر متروکہ کوٹھیوں اور ایک متروکہ موٹر ورکشاپ کے درمیان خالی میدان میں نواح دہلی حصار اور ہریانے سے اجڑ کر آنے والے مہاجروں کی ازخود بسنے والی بستی کی داغ بیل پڑرہی تھی۔یوں کہ نہ کلیم داخل ہوئے اور نہ کوئی امداد مانگی گئی۔اپنی مدد آپ کے طور پر چھپروں سے چھائی جانے والی یہ جھگیاں کھمبیوں کی طرح جیسے خود بخود زمین کے اندر سے نمودار ہوتی چلی جارہی تھیں۔یوں وہ جو کہتے ہیں کہ اوپر والا اپنی مخلوق کی روٹی روزی کا انتظام بھی خود ہی کرتا اور بن مانگے دیتا ہے تو ان دونوں نمانوں کی روٹی روزی کا وسیلہ بن گیا۔ جھگیوں کے چھپر اور کچی دیواریں اُٹھانے میں ان کی مزدوری بھی نکلتی رہتی تھی۔ کیمپ سے لے کر شاہ عنایت کے پچھواڑے کے دوران دونوں نے کبھی منہ سے تو کچھ نہ کہا تھا، پر دونوں کے درمیان ایک بِن کہا اور بِن لکھا معاہدہ ہو چکا تھا کہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ خاص طور پر گٹِھو کے دل پر یہ بات لکھی گئی تھی، اس درجہ معذور تاؤ کی ذمہ داری اسی کی ہے۔کچھ دن کی مزدوری اس نے بچا بچا کررکھی۔ تاؤ سے بیٹھے بیٹھے جو بھی ہو سکتا تھا، سو مزدوری تو اس کو بھی مل رہی تھی۔روٹی دونوں اب تک شاہ عنایت کے لنگر سے ہی کھا رہے تھے۔ مزدوری کے پیسوں کو جوڑ جوڑ کر پہلے تو گٹِھو نے اپنے اور تاؤ کے لیے ایک ایک جوڑا کپڑا بنایا۔بیٹھے بیٹھے ایک دن غائب ہو گیا۔ آدھا دن گزر گیا۔ اس کے انتظار میں تاؤ روہانسا بیٹھا رہا۔ لنگر کھانے بھی نہ گیا۔ بھوک اور غم سے کلیجہ اینٹھ رہا تھا کہ اچانک چوک کی جانب سے گٹِھو نمودار ہوا۔سر پر اتنا بڑاٹو کرا کہ خود اس کے نیچے چھپ گیا تھا۔ ٹوکرا سبزی سے بھرا ہوا۔تاؤ نے اس کو حیرت سے دیکھا اور منہ موڑ کر بناوٹی غصہ سے کہا، ”کتھے ٹر گیا سی؟“

گٹِھو ہنس پڑا۔ ”سبزی منڈی گیا تھا۔ دیکھ نہیں رہا کتنی سوہنی سبزی ہے۔ راستے میں بیچتا آیا ہوں۔”مشکل سے ٹوکرا اتارا۔

”تو اب تو سبزی بیچے گا؟“

”دیکھ تاؤ، یہ مزدوری کا کام تو مُک رہا ہے۔ ایک دو مہینے بعد کوئی مزدوری نہیں ملے گی۔ جھگیاں تو سب تیار ہیں۔ باقی بھی تیار ہو جائیں گی۔ تو اب تو ہانڈی سنبھال،میں پھیری لگا کر روٹی روزی کا بندوبست کرتا ہوں۔ ہاں بھئی کب تک لنگر کی روٹی کھاتے رہیں گے۔“

سو اب سے قرار یہ پایا کہ تاؤ کے روٹی کپڑے کی ذمہ داری گٹِھو کی ہوگئی اور گٹِھو کے لیے ہانڈی روٹی تاؤ کی ذمہ داری ہوئی۔ اور یہ بھی اَن لکھا اور اَن کہا معاہدہ تھا جس کے تحت اسی عنایت شاہ کے دربار کے پچھواڑے والی عمارت کے کھنڈر کی زمین دوز کوٹھڑی اورآدھی چھت والے دالان میں دونوں کی گزر بسر بڑی آسائش اورآسودگی سے ہونے لگی۔ وہ اس آسودگی کی عشرتوں سے اتنے سرشار تھے کہ ماہ وسال کے گزرنے اور حساب لگانے کا بھی خیال نہ رہا۔ گٹِھونے اسی دوران اسی دالان اور کوٹھڑی میں ایک کھڑکی کے پاس تاؤ کو پرچون اور منیاری کی ایک ہٹی بھی ڈال دی تھی جہاں دال چاول، مٹی کے تیل سے لے کر سوئی دھاگہ، بٹن اور سر کی جوئیں کھینچنے والی کنگھی تک دستیاب تھی۔ نئی نئی سر اٹھاتی جھگیوں کے لیے تو یہ بھی ایک بِن مانگی نعمت تھی۔صبح سے لے کر شام تک بچوں کا تانتا لگا رہتا جن کی مائیں بچوں کو پیسے دیتے وقت تاکید سے کہتیں۔،”تاؤ کی دکان سے لائیو کہ تاؤ کی تول اچھی اور مول کم ہوتا ہے، بازار سے آنہ دو آنہ کم۔“ دکان چل پڑی تو گٹِھو پھیری سے جلد لوٹ آتا، دونوں موٹے موٹے پایوں والے منجے پر دکان کے آگے بیٹھ حقہ اور چلم کی کش لگاتے۔ اب تو بیٹری سے چلنے والا ریڈیو بھی شریک حال تھا۔ پرانا سیکنڈ ہینڈ تھا بھی تو کیا تھا۔ اب تک پناہ گیروں کے اعلان جو وہ اپنے گواچے ٹبروں کے لیے کرواتے، ریڈیو سے نشر ہوا کرتے۔ شروع شروع میں دونوں بڑے غور غور سے سنتے۔ پر کبھی کوئی پیغام گورداسپور کے گٹِھو اور تاؤ کے نام نشر نہ ہوا۔اب تو رنج بھی نہ ہوتا تھا اور وہ کوئی آس لگا کر سنتے بھی نہ تھے، بس یوں ہی شغلاً یہ دونوں ریڈیو سے نشر ہونے والے گانے سنتے سنتے سوئی گھما دیتے۔ اچانک آواز آتی۔ ”یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے۔ ضروری اعلان سنیے۔“ بچھڑے پناہ گیروں کے پیغام اپنے گم گشتوں کے نام سننے میں آتے، چھوڑے شہروں کے ناموں، پتوں کے حوالے سے۔ پر کبھی ان کوکسی نے آواز نہ دی۔ وہ چپ چاپ مٹھی میں چلم کا سرا دبا کر زور زور سے کش لگانے لگتے۔دل کا سارا غبار چلم سے نکلے دھوئیں کے ساتھ نکل جاتا۔ ڈھلتے دن اور سانولی شاموں میں دل کی حالت کو بھلانے کے خیال سے آسمان پر اِدھر سے اُدھر اُڑتے چیل کووں کو دیکھنے لگتے۔ ”لگتا ہے ان کا بھی کوئی ٹھور ٹھکانہ نہیں۔ پاگلوں کی طرح اِدھر سے اُدھر اڑتے رہتے ہیں۔“ ایک بول پڑتا۔ دوسرا کہتا، ”ان کا بھی ہے تو سہی۔ میں تو ساری چِر دیکھتا ہوں ان کو آتے جاتے۔ لارنس کے سارے پیڑ ان کے بسیرے ہیں۔ ٹبر کے ٹبر اُدھر سے ہی آتے ہیں۔“

گٹِھو کو تسلی تھی کہ تاؤ کی ہٹی خوب چل پڑی تھی۔تب ہی ایک دن گٹِھو نے پھیری سے واپس آکر تاؤ کو خبر سنائی، ”لے بھئی تاؤ، اپنا تو اتنے ہی دن کا ساتھ تھا۔ میں تو چلا۔“ تاؤ نے بدقت اپنی مڑی ہوئی گردن اس کی طرف کی اور سوالیہ آنکھیں گھمائیں۔ تب گٹِھو نے بجھی بجھی سی آواز میں بتایا، ”وہ حافظ تھا نا جس نے اپنے گھر میں کھڈی لگائی ہوئی تھی،آج ہال روڈ پر ملا تھا۔ اس نے خبر دی ہے کہ میری گھر والی اوربال بچے تو کتنے سال سے لاہور میں ہی رہ رہے ہیں۔“

”سارا ٹبر؟“ تاؤ نے سوکھے گلے سے آواز نکالی۔

”مت... کہاں... سارا ٹبر۔ کتھے... وہ تو سب کے سب، سارے کے سارے وہیں گھر کے ساتھ جل کر راکھ سواہ ہو ئے۔ اب یہ بی بی جمال آراء اپنے بچوں کو لیے شاہدرے میں رہ رہی ہے۔ہاں وہ تو اپنے پیکے گئی ہوئی تھی۔ ان کے ساتھ ہی آئی ہو گی۔“

تاؤ نے پھر سوال ڈالا، ”تے فیرعلان(اعلان) نہیں کروایا۔ یہ عجیب بات ہے۔“

گٹِھونے صاف قلبی سے صفائی پیش کی، ”اعلان کروایا بھی ہو گا تو ہم نے کون سا سنا ہو گا۔ ہمارے پاس ریڈیو تو اب آیا ہے۔“

تاؤ نے اس کی بات کی تائید بھی کردی مگر بجھی بجھی آواز سے۔”ہاں، یہ تو ٹھیک ہی کہہ رہا ہے۔ یہ اعلان تو کب سے ہو رہے ہیں۔“

اگلی صبح دودھ پتی کی چائے کا پیالہ تاؤ نے پکڑایا تو گٹِھونے افسردگی سے پیالہ پکڑتے ہوئے کہا، ”بھائی آج کی صبح اور تیری چائے پی لوں۔حافظ ریگل چوک پر مجھے مل جائے گا۔ اسی کے ساتھ جا کر دیکھتا ہوں۔ لڑکے تو اب سیانے ہو گئے ہوں گے۔“نہیں معلوم کیا سبب تھا کہ اس خبر سے اس کادل بوجھل سا ہو رہا تھا۔ خوشی کے ساتھ ساتھ نروس سا ہو رہاتھا۔ آخر اس کو جمال آراء عرف جمو کی وہ خاموش حقارت اور چپکے چپکے بولے ہوئے وہ الفاظ اور سلوک بھولا تو نہ تھا جو وہ اپنی ساس کے ڈر سے علی الاعلان نہ کر سکتی تھی۔

منظرسے اچانک ہی کوئی غائب ہو جائے تو اس کی کمی بہت نہ سہی تو کچھ لوگوں کو اکثر محسوس ہوتی ہے۔ پھر ایک دوڈھائی فٹ کا کوئی خاموش، اپنے کام سے کام رکھنے والا نمانا جیسا بندہ منظر سے نکل جائے تو اس کی کمی کسی کو کب محسوس ہو سکتی ہے جب کہ وہ منہ اندھیرے اپنا ٹوکرا لے کر منڈی کو نکلتا تو دن ڈھلے بلکہ شام پڑے آکر زمین دوز کوٹھڑی میں پڑجانے والا گٹِھو ہو۔البتہ ٹیڑھی گردن، بھینگی آنکھوں اور چھوٹے قد پر مستزاد کبھ والے تاؤ کی بات تو دوسری تھی۔اس کی بڑی مشہور ی تھی۔ سبب مشہوری کا اس کی وہ ہٹی تھی جس نے پورے علاقے کی جھگیوں سے لے کر اوسط درجے کی کوٹھی والوں تک ایسی سہولت فراہم کردی کہ ان کے ملازموں اور بچوں کو ذرا ذرا سی اشد ضروری چیزوں کے لیے مزنگ، بیڈن روڈ، ہال روڈ کے چکر نہیں لگانا پڑتے تھے۔نمک مرچ مصالحوں سے لے کر ماچس، سر درد کی گولیاں،صابن کی ٹکیاں، غرض ہر شے تاؤ کی ہٹی پر دستیاب تھی۔ یہی وجہ تھی کہ گٹِھوکے منظرسے نکل جانے کے بعد سوائے تاؤ کی اپنی ذات کے اور کسی پر اثر پڑا، نہ کسی کو خبر ہوئی۔تاؤ کی بات تو دوسری تھی۔ اور گٹِھواس وعدے پر گیا تھا کہ”میں کدی کدی گیڑا مارتا رہوں گا۔“ اور وہ گیڑا مارتا بھی رہا۔ پر تاؤ کا تو حال اس بے کس بچے کا سا نظر آنے لگا جس کی ماں اچانک ہی اس کو چھوڑ کر چلی گئی ہو۔اب تو اس کو اپنی دکان سے بھی دلچسپی نہ رہی تھی۔مزاج بھی کھویا کھویا اور چڑچڑ ا ہو گیا تھا۔ پہلے وہ آنے والے بچوں کے لیے کھٹی میٹھی گولیاں،چھوٹی چھوتی سستی والی پتنگیں، ربر، شاپنر، پینسلیں، امتحانی گتے، سب ہی کچھ دھیان سے سجا کر رکھا کرتا تھا۔ پر اب تو دکان پر خاک ہی اُڑتی نظرآتی۔ گٹِھو کبھی کبھار اس کی دکان کا سامان دینے آجاتا تو اس کے چہرے پر ایسی رونق آجاتی جیسے بچھڑی ہوئی ماں مل گئی ہو۔جھکا جھکا ٹیڑھا ٹیڑھا اپنے کبھ کو سنبھالے بھاگا پھرتا۔ دودھ پتی کی کڑک چائے کا پیالہ پکڑایا۔ چلم بنا کر سلگا کر گٹِھوکے ہاتھ میں دی۔اپنا پیالہ پیتے پیتے سوال کرتا، ”اور سنا بھائی گٹِھو،کیسی گزر رہی ہے؟ بچے تو بہت راضی ہوں گے؟“ بجھی بجھی آواز میں گٹِھواس مرتبہ کھل کر ہی بول پڑا تھا۔ ”بس تاؤ،بندے کو ویلا ہی لنگھانا ہوا۔سو لنگھا رہا ہوں۔“

تاؤنے اپنی بھینگی آنکھ کھول کر اس کے چہرے کی طرف گھمائی، ”مطبل (مطلب)؟“

”مطبل یہ کہ اب ان کو ہماری ضرورت نہیں رہی۔ بڑا لڑکا تو اب سیانا ہو چلاہے۔ شاہدرے کی مِل میں لگ گیا ہے۔ بی بی جمال آراء نے سواٹر (سویٹر) بنانے والی مشین لگا لی ہے۔اچھی کمائی ہو رہی ہے اوربھی بڑے خبر گیر مل گئے ہیں۔“ جوں جوں گٹِھو اپنا دکھڑا سنا رہا تھا، تاؤ کے منہ پر بہار سی اترتی معلوم ہورہی تھی۔ اس مرتبہ آواز پر بھی طمانیت آگئی تھی۔ ”اچھا تو اس کے پیکے ساتھ ہی ہیں۔“

”نا کوئی پیکے نہیں، و ہ تو سندھ کی طرف جا بسے ہیں۔“

”پھر کون مل گئے خبر گیر؟“ تاؤ کی آواز میں تجسس کی بجائے بڑی معنویت تھی۔ جیسے کہتا ہو، ”سمجھ رہا ہوں سب۔“ چلم کا ایک لمبا کش لگا کر بولا، ”ان کو تمہاری ضرورت نہیں تو وہاں کیوں بیٹھے ہو۔ دفع کر واپس آجا۔ ادھر تو تمہاری ضرورت ہے۔“

گٹِھو ندامت سے سر جھکائے آبدیدہ سا ہو کر بولا،”پر تاؤ، اولاد بُری شے ہے۔ اس کا منہ بھی کرنا ہوتا ہے۔ اب بیٹی کا بیاہ آرہا ہے۔ میں نہ بیٹھا تو الاہنے تو اس کو ملیں گے اَگلوں سے۔“

”ہاں، یہ تو تیرا مسئلہ ہے تو جانے، پر یہ تھاں جیسی بھی ہے حاضر ہے بے غیرتی کی جندگی سے۔“

گٹِھو یہ کہتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا،”دیکھوکُڑی وداع ہو جائے تو پھر سوچوں گا اور جانا کہاں، یہی ٹھکانہ۔“

گٹِھو کی زبان سے نکلے دو بال ”یہی ٹھکانہ“ تاؤ کی زندگی کے اندھیروں میں روشنی کو مدھم سی کرن بن کر جگمگااُٹھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے چلتے چلتے وہ ایک ننھا سا ٹم ٹم کرتا دیا جلا کر زمین دوز کوٹھڑی کے اندھیرے کونے میں رکھ گیا ہے۔ اسی دن سے وہ مجسم انتظار بن گیا۔ لڑکی کی بدائی میں سال چھے ماہ کا عرصہ تاؤ ایک ایک صبح ہرہر شام کا حساب گن کر لگا رہا تھا۔ اب تو اس کے حسابوں گٹِھو کی واپسی کے دن قریب ہونے لگے اور اس نے تیاریاں شروع کیں۔دکان جو کتنے دن سے کاٹھ کباڑ بنی پڑی تھی،اس کو ٹھیک ٹھاک کرنے کے ساتھ ساتھ گردوغبار سے پاک کر کے چمکا دی۔ شہتیریوں بالوں پر لگے جالوں کو اتارا اورزمین دوز کمرے نما کوٹھڑی میں سفیدیاں کیں۔ اپنے کبھ اور ٹیڑھی گردن کے باوجود۔

دن گزرنا شروع ہوتے ہیں تو گزرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اب وہ ننھا سا ٹمٹماتا امید کا دیا بجھنے کے قریب تھا۔ پھر وہی لاوارثی اور کسمپرسی کا احساس جاگنے لگا۔ ایک انجانا سا خوف اور گہری افسردگی طاری رہنے لگی۔ ساتھ ہی نشے کے سگریٹ بیچنے شروع کر دئیے بلکہ خود بھی پینے لگا۔ عقل تو پہلے بھی پوری نہیں تھی، نشے نے مت ہی مار دی۔ اور یہ وہی دن تھے جب جھگیوں کی رہنے والیاں اپنی بچیوں کو سختی سے منع کرنے لگیں، ”دیکھو پنسل، ربر اور امتحانی گتہ لینے تاؤ کی دکان پر نہ جانا۔“ کہاں تو تاؤ اور اس کی دکان ان کی موسٹ فیورٹ تھی۔ کہاں تاؤ ہوّا بن گیا۔ بچیاں خود بھی لرزنے لگی تھیں اس کے نام سے۔ دکان پر نحوست اور ویرانی نے ڈیرے ڈال دئیے۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ کہتے ہیں جہاں کسی معصوم کا بچپن داغ دار ہو جائے، وہ جگہ اُجاڑ ہو جاتی ہے، سو ہوئی...

اور جس دن گٹِھو بڑی خاموشی اور افسردگی سے دربار کے پچھلے دروازے سے دربار میں داخل ہوا تو دربار کے خادم اور سائیں لوگ اس کو دیکھ کر حیران ہوئے۔ خاموش افسردہ اور کمزور ہونے کی وجہ سے گٹِھو کا قد کچھ اور کم نظر آرہا تھا۔ ”گٹِھو، تجھے کیا ہو گیا؟“ کئی آوازوں نے ایک ساتھ سوال کیا۔

”کچھ نہیں۔ گھٹتا وقت لگ گیا ہے۔ اب گھٹنا ہی گھٹنا ہے۔“ اپنے گھر کاکیا احوال بیان کرتا۔ سامنے میدان کی طرف نگاہ اٹھی تو دیکھا، ایک گدھے والی ریہڑی پر وہ اپنا سامان لد ارہا تھا۔ کُبھ کچھ زیادہ نمایاں ہو گیا تھا۔ گردن کچھ اور ٹیڑھی ہو گئی تھی۔ جب کندھے پر اپنا بستر لادے وہ ریڑھی کی طرف ٹیڑھا میڑھا چلتا جارہا تھا تو گٹِھو کو یوں لگا، اس کا باپ کہہ رہا ہے، ”یہ تو رب نے میرے متھے ڈنگر مار دیا ہے۔اس سے اچھا تو بندر ہوتا ہے۔ سیدھا اپنی ٹانگوں پر تو کھڑا ہو کر چلتا ہے۔“

منہ اٹھا کر اس طرف دیکھنے لگا تو ایک اجنبی چہرے والے مجاور نے اسے بتایا، ”تاؤ ہے،جگہ چھوڑ کر جارہا ہے۔لوگوں نے اُسے یہاں سے چلے جانے کا کہہ دیا ہے۔ تم کو تو معلوم نہیں، اس نے کیا...“

گٹِھو نے بات کاٹ دی، ”ہاں مجھے پتہ ہے، میں اس دن اپنا سامان لے کر ادھر آرہا تھا۔ پلازے ہی سے شور سنائی دے رہا تھا۔ بڑا رولا پڑا ہوا تھا۔ پھر میں اُدھر ہی سے واپس لوٹ گیا تھا۔“ کچھ رک کر بجھی آواز میں پوچھا، ”بے شک، مار بھی خوب پڑی ہوگی؟“

”کیہہ مار پڑنا سی، ڈنگر ورگا، مٹھی بھر بندہ... غلطی تو بڑے بڑوں سے بھی ہو جاندی اے۔“ مجاور اپنے آپ سے بول رہا تھا۔ گٹِھو رنج وملال میں ڈوبادربار والی قبر پر جا کھڑا ہوا۔دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی:”دربار والے شاہ سائیں، اس کی سفارش لگوا دینا۔ ڈنگر ورگا بے نصیبا، لاوارث، ترسا ہویا بندہ۔غلطی قصور کر ہی بہندا اے۔رب سوہنااُسے معاف کر دے۔“

پھر گٹِھو کندھے پر پڑے چار خانے کے رومال سے آنکھیں پونچھتا باہر نکل گیا۔

الطاف فاطمہ

توصیف احمد ملک ایک نوجوان افسانہ نگار اور علم دوست انسان ہیں .آپ کا تعلق .....پنجاب جھیلم  سے ہے  اور آپ انٹیرئیر ڈیزاینر ہیں . آجکل آبھا  میں مقیم ہیں -

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form