اُردوادب میں کوّا

                        ڈاکٹر غلام شبیررانا

 حضرت آدم ؑ کے زمانے سے کّوے اس دنیا میں موجود ہیں ۔ہابیل اور قابیل کے قصے کو رنگیں کرنے میں کوّے کی عملی معاونت کی داستان تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے ۔ پوری دنیامیں پائے جانے والے اس عجیب الخلقت پرندے کو طیور آوارہ میں ممتاز مقام حاصل ہے ۔ اس کی آواز اتنی تیزاورکر خت ہوتی ہے کہ سننے والے کے کان میں نشتر کے مانند پیوست ہو جاتی ہے ۔فضا میں اُڑنے والے طیور میں کوّے کی ذہانت مسلمہ ہے ۔کالے رنگ کا یہ پرندہ اپنی مضبوط چونچ سے ہر چیز کو توڑ پھوڑ سکتاہے۔کوّے کی شکل و صورت دوسرے پرندوں سے مختلف ہے اس کی گردن سلیٹی رنگ کی ہوتی ہے ۔ کوا اگرچہ غلاظت اور عفونت کو پسند کرتاہے مگر مردار اور گلے سڑے ڈھانچے نوچ کر یہ پلک جھپکتے میں صفائی کردیتا ۔اس طائر کی صفائی اور صفایا کرنے کی مہارت کی وجہ سے ماہر خاکروب بھی اس کے سامنے پانی بھرتے ہیں ۔زہریلے حشرات اور کیڑے مکوڑے کھاکر یہ صفائی کے کام میں انسانوں کی مدد کرتاہے ۔ کوّے مِل جُل کر زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنے ہم جنس پرندوں سے ٹُوٹ کر محبت کرتے ہیں ۔ جب کبھی کوئی کوّا کسی آفت نا گہانی کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتاہے تو کوّے اکٹھے ہو کر اس کے غم میں شور و غوغا مچاتے ہیں ۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے موجودہ زمانے میں ہر طرف سائیں سائیں کرتے جنگل میں کو¿ں کاو¿ں کم کم سنائی دیتی ہے ۔ طیور ِ آوارہ و ناکارہ پر دادِ تحقیق دینے والوں نے کالی وردی میں ملبوس اس حرام خوار پرندے کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے ۔اُردو فکشن میں کوّا طویل عرصے سے ایک ہوّابنا ہوا ہے ۔اردو زبان کے اکثر ادیبوں نے کوّے کی مکاری اور عیاری کی باتیں بڑھا چڑھا کر بیان کی ہیں ۔اُردو فکشن میںکوّے پر تخلیقات موجو د ہیں کوئل اور کّوا ، فاختہ کے انڈے اور کوّا ،پیاسا کوّا ،لومڑی اور کّوا ، سات کوّے ، کوّے کی دعا ،سانپ اور کوّا ،اُلّو اور کوّا اس کی مثالیں ہیں ۔

 یہ سال 1980 ء کی بات ہے امریکہ اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی ادیبہ بیپسی سدھوا (1936 B: Bapsi Sidhwa,) کامعرکہ آراناول (The Crow Eaters) شائع ہوا تو ممتاز ماہر لسانیات پروفیسر دیوان احمدالیاس نصیب نے اسے بہت پسند کیا اور احباب پر زور دیا کہ اسناول کا ضرور مطالعہ کریں ۔میرے سب احباب نے اِس ناول کے منفرد موضوع کو بہت پسندکیا۔ اس ناول کا اردو ترجمہ محمد عمر میمن نے کیا جسے میرے بیٹے سجاد حسین نے بہت پسند کیا ۔پروفیسر احمدبخش ناصر اور پر وفیسر حاجی محمد ریاض نے اس ناول کو پنجابی زبان کے قالب میں ڈھالنے کا ارادہ کیا مگر اجل کے بے رحم ہاتھوں نے ان رجحان ساز مترجمین سے قلم چھین لیا ۔ ممتاز مورخ اور ماہر علم بشریات پروفیسر احمد بخش ناصر نے امیر اختر بھٹی کی صدارت میں ہونے والی ایک ادبی نشست میں اپنے ایک تحقیقی مضمون ” سائیں سائیں کرتے جنگل میںکووں کی کائیں کائیں اور بے حس معاشرے کی آ ئیں بائیں شائیں “میں اس ناول کا جو عالمانہ تجزیہ پیش کیا اُس کی باز گشت آج بھی مجید امجد پارک میں سنائی دیتی ہے ۔جب یہ محفل اختتام پذیر ہوئی تو شفیع ہمدم نے پروفیسر احمد بخش ناصر سے اس مضمون کا تقاضاکیا تاکہ اسے ہفت روزہ عروج میں شائع کرایا جا سکے ۔پروفیسر احمد بخش ناصر نے جب اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو ہاتھ خالی تھا۔مضمون کے نہ ہونے کی ہونی سے دِل برداشتہ ہو کر پروفیسر احمد بخش ناصر نے کہا:

 ” مضمون تو میر ی جیب کی رقم سمیت کوئی کوّا اُڑا لے گیااَب میرے پاس واپسی کاکرایہ بھی نہیں ۔دیکھتاہوں شاید لُوہلے شاہ کے شہر خموشاں کی راہ میں کہیں کاغذوںکا پلندہ مِل جائے مگر مضمون نہ مِل سکا۔“

 حیف صد حیف کہ نہ مضمون رہااور نہ مضمون نگار ہمیشہ رہے نام اللہ کا۔کچھ عرصہ بعد میں نے پروفیسر احمد طاہر ملک کی تحریک پر پنجابی زبان میں کوّے کے بارے میں ایک کہانی لکھی جس کو قارئین نے بہت پسند کیا ۔اس کا حوالہ اشاعت درج ذیل ہے :

 غلام شبیر رانا : کہانی ” کاں “ سہ ماہی پنجابی ادب ،پاکستان پنجابی ادبی بورڈ ،لاہور ،جلد 4،شمارہ،15،جولائی۔ستمبر1990،صفحہ 83

 میںاُس زمانے میں ” قدیم دکنی زبان اور موجودہ اُردو زبان کے افعال کا تقابلی جائزہ “ کے موضوع پر تحقیقی کام میںمصروف تھا۔اس لیے میں فوری طور اس ناول کا مطالعہ نہ کر سکاتاہم اس پر تبصرے اور تجزیاتی مطالعا ت میرینظر سے گزرتے رہے ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جب قلی فقیر کی ایک ادبی نشست میں میری لکھی ہوئی کہانی ” کاں“ پڑھی گئی تو فضا میں بے شمار کوّے اُڑتے ہوئے آئے اور کاو¿ں کاو¿ں کرنے لگے ۔ شہر کے بزرگ فقیر گلزار ملنگ کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ اس نے گجرات شہرمیں واقع کانواں والی سرکار ( کرم الٰہی: B:1838,D: 1929 )کے مزار پر پرندوں کی آوازیں سمجھنے کے لیے بہت تپسیا کی ہے ۔ اُنیسویں صدی میں آرائیں خاندان کے اِس فقیر منش مجذوب کے کشف و کرامات کی پوری دنیا میں دُھوم تھی ۔ کرم الٰہی نے جھنگ نے نواحی قصبے میں مقیم اپنے ایک مرشد ” شاہ زندہ “ سے اکتساب ِ فیض کیا۔شاہ زندہ نے اپنے عقید ت مند کرم الٰہی کو دہلی روانہ کیا اور وہاں ایک اور بزرگ نے اسے معرفت کے اسرار و رموز سے آ گاہ کیا۔ کوّوں کا شیدائی گلزار ار ملنگ بھی اس محفل میں شریک تھا ۔کہانی کے دوران میں کوّوں کی کاو¿ں کاو¿ںکے بارے میں وہ کہنے لگا:

 ” تمھاری داستان تمھار ے دِل میںناگفتہ نہیں رہی ۔اِس دیار میں کوّے تمھاری زبان سمجھ گئے ہیں اور داد و تحسین میں انہماک کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔“

 اردو ادب میں کوّا ایک علامت ہے جسے ایک نفسیاتی کُل سے بھی تعبیر کیا جاتاہے جس کے معجز نما اثرسے لاشعور کی تاب و تواں کو متشکل کیا جاتاہے ۔کوّا کی علامت سے قاصد ،حرام خوار ،مردار خوار ،سیاہ پوش،بد طینت ،بد وضع،بد زبان ،بد شگون،منحوس اور اُٹھائی گیرامراد لیا جاتاہے ۔منڈیر پر کوّے کی کاو¿ں کا¿ں سُن کر الھڑ مٹیاریں اسے اپنے محبوب کی آ مد کے شگون سے تعبیر کرتی ہیں ۔ساکنان ِ شہر ِفریب کوّوں کے طلسماتِ مکر سے نکلتے تو کوئی اور منحوس طائر اُن کی نظر میں جچتا۔ جہاں تک بعض طیور کی نحوست کا تعلق ہے یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ کرگس،چُغد اورچمگادڑ بھی کوّے سے کم نہیں مگر حرام خواری کے دریا میں اُترنے والے گرداب کے عذاب میں کوّوں کے سراب سے باہر نہیں نکل سکے ۔کوّے مرحلہ¿ سُود و زیاں کو خاطر میں نہیں لاتے اور بے خطر کُوڑے کے ہراُس ڈھیر پر جھپٹتے ہیں جہاں سے عفونت وسڑاند کے بھبھوکے اُٹھ رہے ہوں۔

 اردو زبان کے کلاسیکی ادب میں کوّے کے کردار پر بہت کم توجہ دی گئی ہے ۔تاریخ کے پیہم رواں عمل پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ کوّا دنیا بھر کی ثقافت اور ماضی کے اہم واقعات کا حصہ رہاہے ۔ عالمی ادب میں کلچر کی اہمیت مسلمہ ہے اس لیے مطالعہ¿ ادب کے حوالے سے ثقافتی تاریخ کو محفوظ کیا جاسکتاہے ۔ بانو قدسیہ نے اپنے ناول ” راجہ گدھ “میںایک بین الاقوامی جنگل کانفرنس کا احول بیان کیا ہے جس میں ہند سندھ سے پرندے غول درغول آئے :

  ” کوّا ،مینا ،بٹیر ،کھٹکھٹ چکور ،چڑیا،موامی جنگل کے عوام تھے اس لیے میٹنگ میں ان کی اجتماعی ووٹ بہت اہم تھی ۔لیکن انفرادی طور پر کوئی ان کی رائے کو نہ پوچھتاتھا۔“

 ( بانو قدسیہ : راجہ گدھ، ص 24)

 طیور ِ آوارہ کو اس خطے کی ثقافت میں منفرد مقام حاصل ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ جس جنگلی حیات اور طیور کی محبت لوگوں کی روح اور قلب میںسرایت کر گئی ہے اُن میں کوّ ابھی شامل ہے ۔ ادب میں کلچر کو ہمیشہ اہم سمجھا جاتاہے جس کے معجزنما اثر سے تخلیقی صلاحیتوں کو صیقل کیا جاسکتاہے اور اذہان کی تطہیر و تنویر کااہتمام کیا جا سکتاہے ۔جس طرح آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھنے والے قدیم کھنڈرات اور بوسیدہ عمارات سے وابستہ تمام حقائق کو سامنے لا کر اُن اسرار ورموز کی گرہ کشائی کرتے ہیں جن سے عام لوگ واقف نہیں اسی طرح ادب میںجن علامات کا استعمال طویل عرصہ سے ہو تاچلا آیاہے اُنھیں بھی تاریخ کا معتبر حوالہ سمجھنا چاہیے ۔ قحط الرجال کے موجودہ دور میں معاشرتی زندگی کے افق پر بے حسی کاعفریت منڈلا رہاہے ۔دیدہ و دِل کو کئی مسائل کا سامنا ہے لوگ سوچتے ہیں کہ آب اور آگ کا تال میل کیا گُل کھلائے گا۔کوّوں کے بارے میں ممتاز ادیبوں کی رائے پڑھ کر ذہن سے انقباض ،اضطراب اور یاس و ہراس کے بادل چھٹ جاتے ہیں ۔انسانوں میں مذہب ،رنگ ،نسل اور زبان کی بنا پر متعدد امتیازات دیکھے جا سکتے ہیں مگرکوّے دنیامیں ہر جگہ ایک جیسے ہی ہیں۔بانو قدسیہ نے کوّوں کی جبلت کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :

  ” گو بوم جاتی کے سر کردوں نے اپنی رائے کا اظہار اندر والے سرکل میں کیا تھا،لیکن کوّے کن سوئی لینے میں اوّل درجے کے حرامی ہوتے ہیں ۔ویسے بھی اُنھوں نے بات پہنچانے کا فن آد م زادوںسے سیکھا تھا۔“ ( بانو قدسیہ : راجہ گدھ ،ص 26)

 موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ حرص و ہوس کے کچلے ہوئے کندہ¿ ناتراش سفہا نے اہلِ کمال کی زندگی اجیرن کر دی ہے ۔کُوڑے کے ہر عفونت زدہ ڈھیرپر کوئی نہ کوئی خارش زدہ کٹ کُھناسگِ راہ دُم ہلاتا ہوامردہ جانوروں کی ہڈیوں اور ڈھانچوں کو نوچتااور بھنبھوڑتا کھڑا دکھائی دیتاہے ۔اگر کوئی کوّااِس طرف آ نکلے تو یہ سگِ راہ کاٹنے کو دوڑتاہے ۔کوّا سب سے پہلے ہڈی کو چکھتا ہے اس کے بعد اِسے چونچ میں سنبھال کر رکھتاہے اور کسی نخل ِ سایہ دارکی شاخ پر بیٹھ کر اِسے نوچتاہے ۔کوّوں کے مزاج کے بارے میں بانو قدسیہ نے کُھل کر لکھاہے ۔

” کوّوں کی چھٹ بھیا برادری کو ویسے بھی ہُما سرکس کاجوکر لگتاتھا،جو ازل سے خود سر بھی تھا اور بر خود غلط بھی ،جب عرصے تک ہُمانایا ب رہاتو میٹنگ کی بے جا طوالت سے سب پرندے عاجز آنے لگے ،کوّے بجا طور پر نالا ں تھے کیونکہ اُن کو جنگل کی عادت نہ رہی تھی ۔وہ کوٹھے منڈیروں پربیٹھ کر عورتوںکی باتیں سننے کے عادی ہو گئے تھے یہاں انسان کا ساتھ نہ مِلاتو یہ بچھیراپارٹی بہت دِ ق ہوئی ۔“

( بانو قدسیہ : راجہ گدھ ،ص26)

 اُردو فکشن میں چُغد ،زا غ و زغن ،کرگس ،بِجُو،خار پشت اورچمگاڈر کی نحوست کے بارے میںادیبوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اُن سے یہ تاثر مِلتاہے کہ یہ سب جان دار مافوق الفطرت عناصر ہیں او رنحوست کے سارے افسانے انہی سے وابستہ ہیں ۔بانوقدسیہ نے مابعد الطبیعات اور پیرا سائیکالوجی کے حوالے سے کوّے اور ہُما کے متعلق عام آدمی کے ذہن میں پائے جانے والے خیالات کا ذکر ان الفاظ میں کیاہے ۔

 ” اَب اِکّا دُکّا سیانے مکّار اور ڈرپوک کوے شاطر سیاست دانوں کی طرح چھوٹے پرندوں کی گنی چنی نفر ی کو گھیر لیتے اور مشتعل کرتے ” لو ہُما تو ازل سے احمق ہے بادشاہ چُنتاپھرتاہے دھرتی پر ۔۔۔۔بھائی ادھر دنیا کا ہر انسان بادشاہ ہے ۔چاہے کُھرلی میں سوئے ،چاہے تخت پر ۔ہُماکم عقل یہ نہیں سمجھتاکہ ہر انسان اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھتاہے جن کے سر پر تکبّر کاتاج ہو اُن کو بادشاہ کیا بنانا۔“   ( بانو قدسیہ : راجہ گدھ، ص26  )

  کوّا گردی نے معاشرتی زندگی پر جواثرات مرتب کیے ہیں اُن میں اخلاقی پستی بھی شامل ہے ۔ اپنی منافقت اور طائر دشمنی کی بناپر کوّے کو پرندوںکی دنیا میںبھی نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے ۔سنا ہے پرانے زمانے میں عادی دروغ گو اور پیشہ ور ٹھگ کالے کوّے سے بہت ڈرتے تھے اس کا سبب یہ تھاکہ کذب و افترا کو وتیرہ بنانے والے سفہا اور اجلاف و ارذال کو کوّے کاٹتے تھے۔چڑھتے سورج کی پرستش اور ہر چمک دار چیز کو سونا قرار دینا کوّوں کا پسندیدہ اندا ہے ۔ کوّے کی منافقت تو ضرب المثل ہے اس بارے میں بانو قدسیہ نے لکھاہے :

  ” کوّے مورو ںکی ٹولی میں جا نکلتے تو فٹ دو غلی پالیسی تلے کہتے ” ہُما کی بات کچھ اور ہے ۔۔۔کرسی صدارت پر صرف وہی سجے گا،اگر وہ نہ براجے تو چاہے لاکھ کھٹ جوڑ کرو انت کچھ نہ ہو گا۔“

  ( بانو قدسیہ : راجہ گدھ، ص 26 )

 ابلیس کی طرح کوّوں کا بھی یہی خیال ہے کہ انسان کی صحبت میں رہنے سے سادیت پسندی اُس کی فطرت ِ ثانیہ بن گئی ہے ۔مادی دور کی لعنتوں نے کوّوں کو حرص وہوس کا اسیر بنا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ نئے دور کے کوّے جُھوٹوں کے بجائے سچ بولنے والوں پر جھپٹتے ہیں اور جھوٹ کے حق میںاس قدرشور مچاتے ہیں کہ فریب کارجُھوٹوں کا دِل بلیوں اُچھلنے لگتاہے ۔ بانو قدسیہ نے کوّوں کے حسدکے متعلق لکھا ہے :

 ” اب کوّے بولے ” یہ کہاں لکھا ہے کہ انسان کی قربت بغض و حسد کاباعث بنتی ہے آخر انسان اللہ کا خلیفہ ہے ۔پرندوں کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں ۔“ ( بانو قدسیہ : راجہ گدھ، ص 30 )

  انسانی کردار اور شخصیت کی تعمیر میںاخلاق کو کلیدی اہمیت حاصل ہے ۔ماہرین عمرانیات اور ماہرین حیوانات کا خیال ہے کہ کوّوں نے انسانوں کولُوٹ مار،قتل و غارت ،چوری چکاری، دہشت گردی ،گداگری اور کاسہ لیسی کے عجیب طریقے سکھائے ۔تخلیق ِ کائنات کے وقت سے لے کر لمحہ ¿ موجود تک ہرشعبہ ¿ زندگی میںکوّوں نے اپنی شقاوت کا لوہا منوایاہے۔حریت ضمیر سے جینے والوں پرکوّوںنے ہمیشیہ دھاوا بولاہے ۔انسانوں کی دیوانگی کااس سے بڑا ثبوت کیاہوگاکہ ہر طر ف برادرانِ یوسف دندناتے اور آستین کے سانپ پھنکارتے نظر آتے ہیں۔کوّوں کے ساتھ معاشرے میں جو ناروا سلوک کیا جاتاہے اس کے بارے میں بانو قدسیہ نے لکھا ہے ۔

 مینا نے پر پھڑ پھرائے اور سب کو متوجہ کر کے بولی : ” جس وقت پہلی دیوانگی کا واقعہ ہوا ۔۔۔قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیااور کوّے نے انسان کی بے بسی دیکھ کر اس کی مددکی ۔آسمان سے اُترااور ہابیل کی لاش کو مٹی میں چُھپانے کا گُر سمجھایا ۔انسان کی کم ظرفی ملاحظہ ہو شکر گزار ہونے کے بجائے اس نے ہمیشہ کوّے کو ذلیل سمجھا اور پرندوں کو اپنی عقل کے تابع کرنے کی کوشش کی ۔“

 ( بانو قدسیہ : راجہ گدھ، ص  31)

دوسری دفعہ کا ذکر ہے کے عنوان سے ابن انشا نے جو سبق آموزکہانیاں لکھی ہیں اُن میں ” پیاساکوّا “ بھی شامل ہے ۔ اپنی کتاب ” اُردو کی آخری کتاب “ جس کے سرو رق پر لکھاہے [نا منظور کردہ ٹیکسٹ بُک بورڈ] لکھا ہے،میں کوّے کے بارے میں لکھاہے :

 ” ایک پیاسے کوّے کو ایک جگہ پانی کامٹکانظر آیا ،بے حد خوش ہوا لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ پانی بہت نیچے صرف مٹکے کی تہہ میں تھوڑاسا ہے۔اب سوال یہ تھا کہ پانی کو کس طرح اُوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے ۔ اتفا ق سے اُس نے حکایاتِ لقمان پڑھ رکھی تھیں ۔پاس ہی بہت بہت سے کنکر پڑے تھے ۔اُس نے ایک ایک کنکر اس میں ڈالنا شروع کیا۔کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہو گئی ،پیاس تو تھا ہی نڈھال ہو گیا۔مٹکے پر نظر ڈالی تو کیادیکھتاہے کہ کنکر ہی کنکر ہیں۔ساراپانی کنکروں نے پی لیاہے ۔بے اختیار اُس کی زبان سے نکلا :

     ” ہت تیرے لقمان کی ۔“

 اگر وہ کوّا کہیں سے ایک نلکی لے آتا تو مٹکے کے منھ پر بیٹھاپانی کو چُوس لیتا۔اپنے دِل کی مراد پاتا،ہر گز جان سے نہ جاتا۔“

 (ابن انشا: اردو کی آخری کتاب ،ص 126)

 کوّے اور انسان ایک ہی معاشرے میں زندگی بسرکرتے ہیں۔ایسا محسوس ہوتاہے کہ آئین ِ نوسے خوف زدہ رہنا اور طرزِ کہن سے والہانہ وابستگی کا اظہار کرنادونوں کی سرشت میں شامل ہے ۔کوئل اور کوّے کا رنگ اور شکل وصورت تو ایک جیسی ہے مگر سرشت اور آواز میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ممتاز مفتی نے کوئل کو ہجر و فراق کی پہچان قرار دیا ہے جب کہ کوّا اپنی حرام خواری کے باعث معاشرے میںنفرت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے ۔کوّے کی مادہ اپنے انڈے کوئل کے گھونسلے میں دیتی ہے اور اپنی تشنگی کی تسکین کے لیے وہاں پڑے کوئل کے انڈے پی جاتی ہے ۔جب کوئل کے انڈوں سے بچے نکلتے ہیں تو وہ کوئل کی آواز نکالتے ہیں ۔اُس وقت کوّے کی مادہ کو اپنے ساتھ ہونے والے فریب کااحساس ہوتاہے مگر اُس وقت تو پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چُکا ہوتاہے۔وہ ٹھونگیں مار کر کوئل کے بچوں کواپنے گھونسلے سے باہر نکالتی ہے اور کوئل کے یہ بچے کسی اور کوے کی مادہ کو ایک نیا فریب دینے کے لیے فضا میںلمبی اُڑان بھر جاتے ہیں۔ کوّوں کی پرواز کو کسی ضابطے کا پا بند نہیں کیا جا سکتا۔اردو زبان کے ادیبوں نے کوّوں کے بارے میں اس امر کی صراحت کر دی ہے کہ کوّے ایک کُھلا امکان ہیں جہاں چاہیں اُڑانیں بھریں اور جس قوت سے چاہیں کاو¿ں کاو¿ں کر کر کے شہروںیا گاو¿ں کے مکینوں کو سکوت مرگ سے نجات دلائیں ۔ممتاز مفتی نے کوئل اور کوّے کی مماثلت پر اپنی رائے دیتے ہوئے لکھاہے :

 ”ٹہنیوں نے بال کھول کر خوشی کے مارے حال کھیلنا شروع کر دیا،ان کے تلے چشمے خوشی سے ٹپ ٹپ رونے لگے ۔اور ان پر بیٹھ کر کوئل نے پی کو بُلانا شروع کر دیا۔اور پگڈنڈیاں دوڑ دوڑ کر نگر کو آ نکلیں۔“

 (ممتاز مفتی : چُپ، ص 175)

 ” کوئل نے بچھڑے باسیوں کو یوں آوازیں دیناشروع کر دیاجیسے وہ آ جائیں گے ۔پگڈنڈیاں اِدھر اُدھردوڑتیں جیسے کھوئے ہوئے ابھی مِل جائیں گے ۔“

 (ممتاز مفتی : چُپ، ص186)

حصول ِ رِزق کے لیے کوّے کی تدابیرکوبالعموم اِس طائر کی چالاکی ،عیاری اور مکر و فریب پر محمول کیا جاتاہے ۔ اَدب میں کّوا محض ایک طائر ِ بد نوا نہیں بل کہ اس سیاہ پوش طائر سے تاریخ کے متعدد حقائق کا انسلاک کیا جاتا رہا ہے ۔قرة العین حیدر نے واضح کیا ہے کہ محض شکل دیکھ کر فریب نہیں کھانا چاہیے ۔ کوّے اور کوئل کی شکل و شباہت تو ایک جیسی ہوتی ہے مگر ان کی فطرت اورجبلت میں بعد المشرقین ہے ۔

 ” جیسے دُور جانے والے مسافر کو کوئل کی آواز سُن کر اپنے دیس کی ندی کنارے آموں پر گنگناتے بھنوروں کی یاد آجائے ا ِس طرح یک بہ یک اُسے رادھا کاخیال آیا۔“

    (قرة العین حیدر : آگ کا دریا ،ص 145)

 اسماعیل میرٹھی نے اپنی ایک نظم میں کوّے کے ڈھب پر عجب انداز میںروشنی ڈالی ہے ۔اِ س نظم میںکوّے کی وضع قطع،عادات و اطوار ، انسانوں ،اپنے ہم جنس پرندوں اور دوسرے طیور کے ساتھ کوّے کے سلوک پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ انسانوں کو بگلا بھگت بھی کہا جاتاہے ، انسانوں کے بر عکس کوّے کا ظاہر وباطن یکساںہوتاہے۔

   کوّا

 کوّے ہیں سب دیکھے بھالے

 چونچ بھی کالی پر بھی کالے

 کالی کالی وردی سب کی

 اچّھی خاصی اُن کے ڈھب کی

 کالی سینا کے ہیں سپاہی

 ایک ہی صورت ایک سیاہی

 لیکن ہے آواز بُری سی

 کان میں جالگتی ہے چُھر ی سی

 یوں تو ہے کوّا حرص کا بندہ

 کُچھ نہ چھوڑے پاک نہ گندہ

 اچّھی ہے پر اُس کی یہ عادت

 بھائیوں کی کرتاہے دعوت

کوئی ذر اسی چیز جو پا لے

 کھائے نہ جب تک سب کو بُلالے

 کھانے دانے پر ہے گِرتا

 پیٹ کے کارن گھر گھر پِھرتا

 دیکھ لو ! وہ دیوار پہ بیٹھا

 غُلّہ کی ہے مار پہ بیٹھا

کیوں کر باندھوں اُس پہ نشانا

 بے صبرا چو کنّا ،  سیانا

 کائی ںکائیں پنکھ پسارے

 کرتا ہے یہ بُھوک کے مارے

تاک رہا ہے کونا کُھترا

 کچھ دیکھا تو نیچے اُترا

اُس کو بس آتاہے اُچھلنا

 جانے کیا دو پاو¿ں سے چلنا

 اُچھلا کُودا ،لپکا ، سُکڑا

ہاتھ میں تھا بچّہ کے ٹُکڑا

آنکھ بچاکے جھٹ لے بھاگا

 واہ رے تیری پُھرتی کاگا!

ہا ہا کرتے رہ گئے گھر کے

 یہ جا وہ جا چونچ میں بھر کے

 پیڑپہ تھا چڑیا کا بسیرا

 اُس کو ظالم نے جاگھیرا

 ہاتھ لگاچھوٹا سا بچّا

 نوچا پھاڑا کھاگیا کچاّ

 چڑیا رو رو جان ہے کھوتی

ہے ظالم کی جان کو روتی

 چِیں چِیں چِیں چِیںدے کے دہائی

اپنی بِپتا سب کو سنائی

 کون ہے جو فریاد کو پہنچے

 بے چاری کی داد کو پہنچے

 پکنے پر جب مکّا آئی

 کوّوں نے جا لُوٹ مچائی

 دُودھیا بُھٹّا چونچ سے چیرا

 سَچ مُچ کا ہے اُٹھائی گِیرا

 رکھوالے نے پائی آ ہٹ

 گوپھن لے کر اُٹّھا جھٹ پٹ

 ” ہریا ہریا “ شور مچا کر

 ڈھیلا ماراتڑ سے گُھماکر

 سُن کے تڑاقاکوّا بھاگا

 تھوڑی دیر میں پھر جا لاگا

 لالچ خورا ڈھیٹ نڈر ہے

 ڈانکو سے کچھ اس میں کسر ہے ؟

 ڈانکو ہے یا چو ر اُچکا

 پَر ہے اپنی دُھن کا پکا

 ( مثنوی ” کوّا “ اسماعیل میر ٹھی ،ص:362)

 فضائے بسیط میں کوّوںکی ہمہ گیر ی اور آفاقیت کی تفہیم پرعلم الحیوانات کے محققین نے بہت کم توجہ دی ہے ۔بعض ماہرین طیور کا کہنا ہے کہ دنیا کو کوئی بھی معاشرہ ایسا نہیں جہاں کوّوں نے اپنا رنگ نہ جمایا ہو۔فنون ِ لطیفہ کے اکثر شعبوں میں تجریدیت کے حوالوں میں بھی کوّے کے سیاہ رنگ او ر کرب کے کئی آ ہنگ سمٹ آ ئے ہیں ۔ادیب کوّوں کو یاد کر کے اکثر یہ سوچتے ہیں کہ اہل ِجنوں ان طیور کو کہا ں کہاں پُکار آئے ۔کوّوں کے فریب کے متلاطم دریا میں اُترنے والے بھنور کے بدلتے ہوئے تیور دیکھ کر یاس و ہراس کا شکار نہیں ہوتے بل کہ عفونت کی فراوانی اُن کے لیے آسانی کی کوئی نہ کوئی غیر متوقع صورت سامنے لاتی ہے ۔معاشرتی زندگی اور افراد کے نجی معاملات میں کوّوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے متعدد مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔کوّا گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو دیکھ کر اِنسانی شعور پر لرزہ طاری ہو جاتاہے ۔ادب کا عام قاری اس نتیجے پر پہنچتاہے کہ طیور کی دنیا میں حرام خواری میں کوّے کا کوئی شریک و سہیم نہیں۔ کوّوں کے دِل کو جب سے حرص وہوس کی لو لگی ہے اِ ن کے کینہ پرور دِل میںحسد کے شعلے بھڑکنے لگے ہیں ۔کوئی جادہ ہوکوئی منزل ہوسادیت پسندی کی سڑاند ایک جیسا ظاہر و باطن رکھنے والے طیور کے ساتھ ساتھ محو پرواز رہتی ہے ۔مظاہرِ فطرت کو دیکھ کرانسان جو جمالیاتی حظ حاصل کرنا چاہتاہے کوّے اُس کی راہ میں سدّ سکندری بن کر حائل ہو جاتے ہیں۔ ممتاز مفتی نے آبادیوں میں رہنے والے کوّوں کی انسان دشمنی کے حوالے سے لکھاہے ۔یہ سب ایسے کوّے ہیں جواپنی کریہہ آواز سے حق گوئی و بے باکی کو پسند نہیں کرتے ۔

” تمام گھر میں چاروں طرف شور مچا ہوا تھا

 ہی ہی ہی ہی ،شرم نہیں آتی ۔

 قاضی صاحب تو سمجھ لو ہمارے بھائی تھے ،ذرا قریب ہو جاو¿ نا ،شرم نہیں آتی ،

شرم نہیں آتی ،شرم نہیں آتی ۔محلّے کے کوّے چِلا رہے تھے ۔“

( ممتاز مفتی : علی پور کا ایلی ،صفحہ 74 )

 قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں بونے باون گزے بن کر عوج بن عنق کی صورت میں نرگسیت کاشکار ہوجاتے ہیں توزاغ و زغن پر کر گسیت طاری ہوجاتی ہے ۔ ملا وجہی نے اپنی کتاب سب رس میں کوّے کا ذکر کیا ہے ۔قدیم دکنی میں اِس طائر کو جن ناموں سے پکارا جاتاتھا اُن میں کووے ،کنوئیں، کنوا شامل ہیں ۔

 شہری یا دیہاتی زندگی میں کوّے کو معاشرے میں مجہول آلہ¿کار کی حیثیت سے دیکھنا حقائق کی تمسیخ اور صداقتوں کی تکذیب کے مترادف ہے ۔ موجودہ دور میں زندگی کا چلن عجیب ہو رہاہے جس شہر کو بھی دیکھیں وہ کوفے کے قریب ہو رہاہے ۔باطنِ ایام پر نظر رکھنے والے جانتے ہیںکہ جہاں سر و صنوبر کی فراوانی تھی آج وہاں حنظل اورزقوم سر اُٹھا رہے ہیں ۔بُور لدے چھتنار اور اثمار واشجارپر کوّوں نے غاصبانہ طور پر قبضہ کر رکھاہے ۔ مردار جانورو ںاور گندگی کے ڈھیرپر کوّے دِل و جان سے فدا ہیںیہ سودا کوّوں کے پنجوں ،پروں اور سر سے نہیں جھڑتا۔کوئے خطر میں بھی یہی سودا کوّوں کو کشاں کشاں لے جاتاہے ۔گندگی پر مٹنے کا سوداکوّوں کے سر اور چونچ پر اس طرح سوار ہے کہ لاکھ تیرِ ستم چلتے رہیں کوّے مفادات کے شجر سے اُڑ کر کہیں نہیںجاتے۔کئی کسان جدید دور کے کوّوں کی فطرت سے اِتنے ان جان ہیں کہ وہ کھیتوں کے کنارے بجوکا کھڑے کر دیتے ہیں تا کہ ان پر کوّوں ے کو کسی محافظ کا گمان گزرے اور وہ کھیت سے دُور رہیں مگر کوّے بجوکے کے سر پر بیٹھ کر مکئی اور جوار کے وہ بُھٹے کھاتے ہیں جووہ کھیتوں سے توڑ کر لاتے ہیں۔ کوّے معاشرتی زندگی سے گہرے اثرات قبول کرتے ہیںوہ بھینس کے آگے بین بجانے کے بجائے بھینس کے سر پر چڑھ کو بولتے ہیں ۔عبداللہ حسین نے کوّے کی فطرت اور جبلت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھاہے :

 ” دروازے کے باہر دو کُتے چہلیں کر رہے تھے ۔ایک پلی ہوئی بھینس اطمینان سے جُگالی کر رہی تھی ۔ایک کوّا اُس کے سر پر بیٹھاچونچ مار رہاتھااور دو باتونی چڑیاں اُس کے گوبر کو کرید رہی تھیں ۔“

 ( عبداللہ حسین : اداس نسلیں ،ص78)

 مرزا محمد رفیع سودا نے ہجوگوئی کو اوج کما ل تک پہنچا دیا۔اس یگانہٗ روزگار شاعر نے اپنی ہجو گوئی سے قارئیں ِادب کو حیر ت زدہ کر دیا۔سودا نے جس موضوع پر بھی ہجو لکھی اُسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی ۔سودا جب ہجو کے ذریعے خنجر آزما ہوتاہے تووہ اپنے ہدف پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگاتاہے ۔وہ تیشہ¿ حرف سے فصیلِ مکر و فریب کو منہدم کر کے دِلی خوشی محسوس کرتاہے ۔ اس با کمال ہجو گو نے ” قصیدہ تضحیک ِ روزگار “ میںجعل سازمریل ٹٹو کو اِس مہارت سے گدھے کے رُوپ میں پیش کیا ہے کہ قاری اش اش کر اُٹھتاہے ۔ہجو گوئی میں اُس کی گل افشانی¿ گفتار مخمس در ہَجو حلت غراب میں نظر آ تی ہے جہاں ایک مسخرا کوّے کو حلال قرار دیتاہے اور سودا اُس کے حال پر اپنے جلال کااظہار کرتاہے ۔عالمی ادب میں علامت ،اشارہ اور رمزیت کی ایسی مثالیں خال خال نظر آتی ہیں ۔

         مخمس در ہَجو حلت غراب

 لشکر کے بِیچ آج یہی قیل و قال ہے     کھانے کی چیزکھانے کا سب کو خیال ہے

 یوں دخل امر و نہی میں کرنا محا ل ہے     جو فقہ داں ہیں سب کا یہ اُن سے سو ال ہے  

       اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 حامی اُنھوں کے قول کا ہووے ہے چاند خاں   اور دُوسرے میں کیا کہوں اِک اپنے مہرباں

 کچھ شک رہا ہے کوّے کی حلت کے درمیاں   ہم سے جو کوئی پُوچھے تو ہم بھی کہیں کہ ہاں

       اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 یارو بسو ہو تم اِسی دہرِ خراب میں    بیٹھا اُٹھا کرو ہو سدا شیخ و شاب میں

 حلت رکھے ہے زاغ کسو بھی کتاب میں    جتنی کتب ہیں فقہ کی اُن کے جواب میں

       اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 بِگڑاہے آج مجتہدوں بِیچ کیا یہ نِیل     مُلا لطیف بولے کہ کھنا روا ہے چِیل

کہتاہے چاند خاں کیا کِن نے حرام فِیل    حلت پہ مینڈکی کی میاں جی کی سو دلیل

       اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 ہو گا اگر حلال تو کوّا پہاڑ کا     لیکن نہ یہ غضب کہ کٹاہی کے جھاڑ کا

 لازم ہے کیا چچوڑنا ہر ایک ہاڑ کا     زرآوری سمجھ کے مزا اپنی ڈھاڑ کا

      اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 اپنے نفر سے آج انھوں نے جو یہ کہا    کوّا حلال چیزہے میرے لیے پکا

 بولا نفر کہ خیر تو ہے ،تم کو ہوا ہے کیا    مشہور یہ سخن ابھی ہوتا ہے جا بہ جا

       اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 القصّہ یہ تھے اَبلہ وہ نفر تھا ذو فنون    اِک کوّا چیر پھاڑ کے ہانڈی میں ڈالا بُھون

 پُوچھا جو نُون چکھنے کو بولا وہ کھا جنون    کِس مجتہد کے فتوے پہ اس کا چکھوںمیں نون

       اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 طیار جس گھڑی کہ وہ کرتاتھاماحضر    کوّے کی حلت اُس سے جو پُوچھے تھا آن کر

جھنجھلاکے یہ جواب اُسے دیوے تھا نفر    جانے مری بلا مجھے اس کی ہے کیا خبر

      اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

چولھے کو پھونک پھونک پزندہ ہواہلاک    کوّا گلا نہ جل گئے جنگل کے سارے ڈھاک

اُکتاکے تب وہ بولاکہ آئی ہے جاں نباک    پوچھا کسو نے کیوں تو کہا کیاکہوں میں خاک

      اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 جب پک چکا تو کرتے تھے وہ اُس سے یہ کلام   گھی پی لیا ہے تونے تو کوّا رہاہے خام

کہنے لگا نفر کہ میاںلو خدا کا  نام     اپنے تو بھاویں زیادہ ہے یہ خوک سے حرام

     اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 پھر تو یہ غصّہ اُن کو چڑھ آیا کے جیسے تب     ایدھر سے یہ پلے نفر اودھر دوڑے سب

 لوگ اُن کو تھامتے تھے یہ کہتے تھے ہے غضب    آقا کو اپنے یوں کہے یہ بھڑوا بے ادب

     اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 ایدھر تو اُن کو روک رہے تھے کئی جوان     انفار سب اُدھر سے یہ کہتے تھے یک زبان

یارو ہمارے اُن کے تم آو¿ نہ درمیان      دیکھیں تو کیا یہ چومیں گے ہم تو کہیں کہ ہاں

     اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

جس وقت بڑھ پڑی غرض آپس میں دو ت وات   ایدھر سے دھول چلنے لگی اور اودھر سے لات

پگڑی اُنھوں کی ان کنے جیب ان کی اُن کے ہات   مبدا جو اس فسادکا پوچھوتو اِتنی بات

     اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 لوگوں نے مار مار کے اُن کو دیا ہٹا      چیرا اٹھا زمین سے یہ سج کر کے لٹ پٹا

 بولے میں پاجیوں سے دبوں تو نہیں گھٹا    لیکن میں کیاکروںکہ دِل اس بات سے کٹا

    اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 انفارپھر سب آن کے اس بات پر اَڑے    ہم کوڑیاں طلب کی تو لیں گے کھڑے کھڑے

یہ بولے میں لڑوں گاوہ بولے کہ بس لڑے    وہ لڑ چکے جنھیں کہیں نفر سڑے سڑے

    اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 تنخواہ دینے کو نہ درم اُن کنے نہ دام     ناچار ہوا انھوں نے کیا صلح کا پیام

 سُن کر لگے وہ کہنے کہ اپنانہیں یہ کام    رہنا انھوں کے گھر جنھیں بولیں ہیں خاص وعام

    اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 گزران ہم تو کرے تھے کھاکھا کے یاں چنے   ان کی زباں کے چسکوں سے لیکن نہ اَب بنے

 کوّا تواُن کے دِل میں غذا آن کر ٹھنے    یوں ہم سے وہ کہیںیہ ہمیں بھیجیں جس کنے

      اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

پکوا کے آج کوّااُنھوں نے کری یہ دُھوم   کل یوں کہیں گے واسطے میرے پکاو¿ بُوم

یہ نوکری تو وہ کرے ایسا ہی ہو جو شُوم    تنخواہ اپنی لے یہ کہیں گے علی العموم

      اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

آویں بھی ہم اگرتو اسی شرط سے اَب آئیں   عالم تمام کھتا ہو جو گوشت سو یہ کھائیں

 آ ئندہ چِیل و کوّے یہ ہر گز نہ دِل جلائیں   کوّے کو جو حلال کہیں اُس کو یہ سنائیں

      اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

 القصّہ کتنی دیر رہی جب یہ بات چِیت    ہارے میاں نفر سے ہوئی پاجیوں کی جِیت

 بدلے خرام خوری کےان خر فشوں سے ریت   شادی ہو تب تو گانے ہیں اس کا بنا کے گیت

      اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے

حلت کو زاغ کوہی کے نزدیک دور میں    تحقیق میں کیا تو نہ آیا ظہور میں

کوّا نہیں حلال جو ہو کوہِ طُور میں    سودا کرے ہے عرض یہ آ کر حضور میں

     اِک مسخرا یہ کہتاہے کوّا حلال ہے      

      (کلیات سودا : ص355 )

  حریت ِ فکر و عمل کے ایک مجاہد کی حیثیت سے مرزا محمد رفیع سودا نے ابتلا اور آزمائش کے ہر دور میں حرف ِ صداقت لکھنا اپنا مطمحِ نظر بنایا مرزا محمد رفیع سودا مصلحت ِ وقت کا قائل نہیں بل کہ سر اُٹھا کر چلنا ہمیشہ اُس کا شیوہ رہا ہے ۔اُس کے مزاج میں ایک شانِ استغنا ہے ،اسی لیے وہ اپنی دنیا میں مگن نہایت خاموشی سے پرورش لوح و قلم میں مصروف رہا اور اپنے تجربات و مشاہدات کو بلا کم و کاست زیبِ قرطاس کرتا رہا۔ اپنی اِس نظم میں مرزا محمد رفیع سودا نے معاشرتی زندگی کی اقدار و روایا ت کو پامال کرنے والے مسخروں کو آئینہ دکھایا ہے۔خود ستائی کے مرض میں مبتلامہا تُما(بہت بڑا حنظل) جب ہوس زر کا اسیر بن جاتا ہے تووہ نہ صرف اپنے منہہ میاں مٹھو بننے کے خبط میں مبتلا ہو جاتا ہے بل کہ اہلِ کمال کی پگڑی اُچھا لنا اس کا وتیرہ بن جاتا ہے۔ا یسے مسخرے کی کور مغزی،ذہنی افلاس اور بے بصری کا یہ حال ہوتا ہے کہ خورشید ِ جہاں تاب کی ضیا پاشیوں کو بھی وہ محض جگنو کی روشنی پر محمول کرتا ہے۔ مرزا محمد رفیع سودا کی ظریفانہ شاعری میں بلند فکری منہاج،وسیع مطالعہ،مشاہدات،تجربات اور تجزیات کا خرمن قاری کو مسحور کر دیتاہے۔ خاص طور پر یہ سر گزشت جب کھوئی ہوئی اقدار و روایات کی جستجو کا انداز اختیار کرتی ہے تو اس کا کرشمہ دامنِ دِل کھینچتاہے ۔ معاشرتی زندگی میں رو نما ہونے والے مزاحیہ واقعات کی لفظی مرقع نگاری میں مرزا محمد رفیع سودا کو کمال حاصل ہے۔خود غرضی پر مبنی سفلی تمناﺅں میں اُلجھے اور ہوسِ زر کے کُچلے نام نہاد سخن ور ستائش اور صلے کے لالچ میںجب زندگی کی اقدارِ عالیہ کو پسِ پشت ڈال کر اور اپنے ضمیر کا گلا گھونٹ کر قصیدہ گوئی اور مدح سرائی کی بھونڈی روش اپنا لیتے ہیں تو ان کا یہ انداز ان کی رسوائی اور جگ ہنسائی کا سبب بن جاتا ہے۔ ضیافتوں میں گُھس بیٹھنے والے مفت خور لیموں نچوڑ، غاصب اور قابض مسخروں کی بد ذوقی اور خست و خجالت کو اس ہجو کا موضوع بنایا گیاہے ،  

 مزاحیہ کردار اور مسخر ے میں جو فر ق ہے وہ اہلِ نظر سے پوشیدہ نہیں ۔معاشرتی زندگی میں مسخرے عزت واحترام سے محروم ہوتے ہیں ۔ ان کی ہیئتِ کذائی دیکھ کر ہنسی ضبط کرنا محال ہوتا ہے۔ جہاں تک مزاحیہ کردار کا تعلق ہے تو یہ اپنی خود ساختہ جعلی اور فرضی توقیر و تکریم کی بنا پر اپنے تئیں عصرِ حاضر کا نابغہ سمجھتا ہے ۔ مسخرا ایسا جھنجھٹ کرتا ہے کہ اس کی نظر میں کوئی اہل کمال جچتا ہی نہیں ۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ مزاحیہ کردار جعلی وقار کا بھرم قائم رکھنے کے لیے بناوٹ ، دکھاوے اور منافقت کا سہار ا لیتا ہے مگر مسخر ے کے عیوب اس قد ر واضح ہوتے ہیں کہ انھیں چھپانے کی کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ ضیافت میں کوّے کا طعام کھانے پر اصرار کرنے والے پیٹو عیاش کا کوّے کو حلال قرار دینا اُس مسخرے کے ذہنی افلاس کی دلیل ہے۔اس ہجو میں مرزا محمد رفیع سودا نے نفسیات اور علم بشریات پر اپنی کا مل دسترس کا ثبوت دیا ہے۔کردار سے عاری اس مسخرے کی زبان آری کی طرح چلتی ہے ۔ جس بے حسی اورڈھٹائی کے ساتھ پیٹو عیاش مسخرے کے ہم نوا بن گئے اور اس کے مضحکہ خیز طرزِ عمل کو خاموشی سے برداشت کرتے رہے اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ وہ سب کے سب مہا مسخرے تھے۔ مرزا محمد رفیع سودا نے نہایت خوش اسلوبی سے ان تما م ضمیر فروش مسخروںکو طنز و مزاح کا ہدف بنایا ہے ۔زندگی کی اقدارِ عالیہ اور درخشاں روایات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے حرص و ہوس کے مارے درندوں نے جس طرح ہر طرف اندھیر مچا رکھا ہے مرزا محمد رفیع سودا نے اُس پر گرفت کی ہے ۔

 پیٹ کا دوزخ بھرنے کے سلسلے میں کوّے کی حرص و ہوس کو اخلاقیات سے وابستہ کرناکج بحثی کی دلیل ہے ۔کہا جاتاہے کہ کوّے زیادہ تر تخریبی قوت ہی سے کام لیتے ہیں اور صفائی و پاکیزگی کے اصلوںکو پیشِ چونچ نہیں رکھتے ۔کوّے اپنے نوکیلے پنجوں اور مضبوط چونچ کے زور سے اپنی غذاحاصل کرتے ہیںچوری ،مکر و فریب ،کاسہ لیسی اور ٹھگی کو وہ کلاغیت کی توہین سمجھتے ہیں ۔کوّے آزادانہ ماحول میں باہم مِل کر پرواز کرتے ہیں اور آپس میں اِن کا کبھی کوئی جھگڑانہیں ہوتا۔ہاں اگر کبھی کو ئی درانداز اِن کے در پئے آزار ہو توتو سب کوّے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مِل کرچونچ پھار کر اور پنجے جھاڑکر گردشِ حالات کے سامنے چونچ سِپر ہو جاتے ہیں۔ کوّوں سے کئی شگوں بھی جُڑے ہیںشمس الرحمٰن فاروقی نے اِن کااحوال بیان کرتے ہوئے لکھاہے :

  ” انھیں اچانک کچھ ڈر محسوس ہوا۔وہ کچھ کہناچاہتے تھے کہ پیڑوں کے پچھلے جُھنڈ سے ایک کوّا کاو¿ں کاو¿ں کرتا ہوا گزرا۔آغا تراب علی نے دیکھا ،بل کہ محسوس کیا ،کہ اہلِ قافلہ کی آنکھیں گو کہ زمین کی طرف جُھکی ہوئی تھیں،لیکن در حقیقت سب کوّے کو دیکھنے کے لیے تجسس میں ہیںکہ کوّا کسی شاخ پر اُترتا ہے یا اُڑ جاتاہے ۔منیر خان ہلکے سے کھنکھارا،شاید اُس نے لب کُشائی کی جرا¿ت کر لی تھی ۔لیکن ابھی اُس نے کچھ کہا نہ تھاکو کوّا بآوا بلند پُکارتا ہوا آگے بڑھ گیا۔کوّے کے گزرتے ہی اہلِ قافلہ کے چہرے بشرے سے کچھ مایوسی مترشح ہوئی گویا اُنھوں نے سمجھ لیا ہوکہ اِن نواب صاحب کا تحفظ ہمیںنصیب نہ ہو گا،ہمیں اپنی راہ لگنا چاہیے ۔لیکن یہ مایوسی کسی اور بات کی غماز تو نہیں؟آغا تراب علی نے دِل میں سوچاایسا تو نہیں کہ یہ واقعی ٹھگ ہوں اور میرے سخت طرزِ گفتگو سے وہ سمجھ گئے ہوں کہ میںچھنک گیاہوں اور اَب اِن مُردار خواروں کاشکار نہ بن سکوں گا۔“

  (شمس الرحمٰن فاروقی: کئی چاند تھے سر آسماں،ص 596)

  منشی پریم چند نے اپنے افسانے ”آخری تحفہ “ میں دُکھی نامی ایک محنت کش چمارکی زندگی کی لفظی مرقع نگاری کی ہے جوبُھوکا ،پیاسا،تکان خوردہ ہونے کے باوجودبر ہمن کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایندھن کا ٹتے کاٹتے اور خشک لکڑیاں چیرتاچیرتا زینہ¿ ہستی سے اُتر گیا۔ اجل گرفتہ چمار کے لواحقین روتے ہیں تو گاو¿ں کے بر ہمن ان کی آہ و فغاںاور چیخ پُکار کو نحوست سے تعبیر کرتے ہیں ۔کوئی بھی شخص مرنے والے کی آخری رسومات کی تیاری نہیں کرتا یہاں تک کہ لاش سے بُوآنے لگی ۔اس کے بعد ایک پنڈت نے دِل پہ جبر کر کے مرنے والے کی لاش کو ٹھکانے لگایا ۔پریم چند نے اس سانحہ کے بارے میں لکھاہے:

 ”پنڈت جی نے ایک رسی نکالی ،اس کا پھندابنا کر مُردے کے پیر میں ڈالااور پھندے کو کھینچ کر کَس دیا،ابھی کُچھ کُچھ اندھیرا تھاپنڈت جی نے رسی پکڑ کر لاش کو گھسیٹنا شروع کر دیااور گاو¿ں کے باہر گھسیٹ لے گئے وہاں سے آکر فوراًنہائے دُرگا پاٹ پڑھااور سر میں گنگا جَل چھڑکا ۔اِدھر دُکھی کی لاش کو کھیت میں گیدڑ ،گدھ اور کوّے نوچ رہے تھے ۔اُس کی تمام زندگی کی بھگتی ،خدمت اور اعتقاد کا انعام تھا۔“

 ’ پریم چند: نجات، افسانہ ”آخری تحفہ “ ص 245)

 دھر ماتما بننے والوں نے ایک فاقہ کش چمار کی لاش کو گھسیٹ کر بستی سے باہر پھینک دیا۔پریم چند نے واضح کیا ہے کہ گیدڑ ،گدھ اور کوّے یہی استحصالی عناصر ہیں جو مکر کی چالوں سے بازی لے جاتے ہیں اور نِیچ لوگوں کو حقارت سے دیکھتے ہیں ۔

 کوّوں کی کئی قسمیں ہیں جن میں کوہستانی کوّے ،میدانی کوّے ،سیلانی کوّے ، فسادی کوّے،کمادی کوّے اور فریادی کوّے شامل ہیں ۔ کمادی کوّے کا رنگ پیلاہوتاہے اور یہ با لعموم کماد کے کھیتوں میں گنے کا رس چوس کر گزر اوقات کرتاہے ۔ فطرت کے مقاصدکی نگہبانی کرنے والے اس پرندے کو دیکھ کر شعلہٗ حر ص و ہوس بھی سیاہ پوش ہوجاتاہے ۔ جدید دور میںکوّا شناسی پربہت کم توجہ دی جارہی ہے ۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ استحصالی عناصر کے مکر کی چالوں سے کوّے مات کھا گئے ہیں ۔پرانے زمانے میں نیل کے ڈبے پر نیل کنٹھ کی تصویر بنی ہوتی تھی ۔کالی پالش کی ڈبی پر کیوی پرندے کی تصویر سجادی گئی ہے ۔کوّا کسی قسم کی مصنوعات کا ٹریڈمارک نہیںبن سکا اوراب تک اپنے کلاغی حقوق سے محروم ہے ۔کیاہی اچھاہو کہ کوئی ایسی کمپنی جو سر کے سفید بالوں کو کالاکرنے کا خضاب تیار کرتی ہے وہ اپنی مصنوعات پرکوہساتی کوّے کی تصویر چھاپے ۔کوّا مارکہ خضاب جب بازار میں آئے گاتوضعیف لوگ اپنا سرکالا کرنے کے لیے کوّامارکہ خضاب ہاتھوں ہاتھ لیں گے ۔ اگر مرغ ِبادنما بن سکتاہے تو زاغ ِ باد نما کی تیاری میں کیا امر مانع ہے ؟کوّا شناسی کے بغیر فطرت شناسی کے تقاضے پورے کرنابعید از قیاس ہے ۔سفید کوّے ،کالی بھیڑیں اور گندی مچھلیاں ازل سے کوّوں کے درپئے آزار ہیں ۔ اُردو فکشن میں کوّوں نے خوب سماں باندھا ہے جس تخلیق پر نگاہ ڈالیں کوّوں کی کاو¿ں کاو¿ں سے کان پڑی آوازسنائی نہیں دیتی ۔کالی دیوی بھی کوّوں پر مہربان ہے اسی لیے کوّے کے رنگ کی مطابقت سے کئی شہرآباد ہوئے جن میں کالا زاہ کاکو ،کالام،کالا باغ ،کالی چرن ،کالنجر اور کالی کٹ شامل ہیں۔چند روز قبل سیاہی وال سے تعلق رکھنے والی ایک چربہ ساز اور سارق محافظہ¿ رومان مصبہا بنوجس کی آواز زمستانی کوّے کی آواز کی طرح بے کیف تھی اپناکفن پھاڑ کر بولی کہ امریکہ سے تعلق رکھنے والا نقاد اور ماہر تعلیم جان کر و رینسم ( 1881-1974:John Crowe Ransom ) بھی میرامعتقدت ھا۔ نئی تنقید سے متعلق نظریات کے بارے میں اپنی جسارت سارقانہ کے بیان میں اس چربہ سازٹھگ اور سارق نے بتایا کہ اُس کے مسروقہ خیالا ت کی بریدہ ٹہنی پر یہ زاغ ( Crowe) اُترا جس نے میرے مقالے ” قدیم دکنی اور موجودہ اردو زبان کے افعال کا تقابلی جائزہ “سے وہ تنقیدی خیالات اُڑالیے جو میں نے ایک ضعیف معلم کا لیپ ٹاپ چرانے کے بعدوہاں سے اُڑائے تھے ۔یہ بات سُن کر ناطقہ سر بہ گریباں ہے کہ اسے کیا کہیے اور خامہ انگشت بہ دنداں ہے کہ اپنی جہالت کاانعام پانے والی اس بزاخفش کے بارے میں حقائق کیسے زیب قرطاس کیے جائیں ۔ اسی اثنا میں میرے کانوں میںاشفاق احمدکے یہ الفاظ گونجنے لگے :

 کا ںکاں کاں

 میں کی ہڑے پاسے جاں

اندر باہر چار چفیرے

ہر تھاتیرا ناں

 (کنورٹ کرنے میں تاریخ کے الٹ پھیر کی وجہ سے حوالاجات شامل نہیں کئے گئے ہیں )

ڈاکٹرغلام شبیررانا

Dr.Ghulam Shabbir Rana ( Mustafa Abad ,Jhang City)

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form