وبا کے دنوں میں بیٹی کا خط

November 24, 2020
دیدبان شمارہ 12 مابعد کرونا نمبرStoryStory

دیدبان شمارہ 12

وبا کے دنوں  میں بیٹی کا خط ( مئی ، 2020)

اماں!

فضا میں موت رقص کر رہی ہے، چہرے پہ مکروہ ہنسی سجائے، دانت نکوسے زندگی پر جھپٹنے کی کمینی خوشی موت کے بھیانک ہیولے میں چھپائے نہیں چھپتی۔ جان لیوا موسیقی کی آواز تیز ہوتی ہے، وہ گھومتی ہے تیز اور تیز، چاروں طرف۔ سرد ہوائیں چلتی ہیں، انسان پتھر کا ہو رہا ہے، تنہائی جان لیوا ہے۔

آسمان کا رنگ بدل سا گیا ہے۔ میرے کمرے کی چھوٹی سی کھڑکی سے آسمان کا ایک ٹکڑا جھانکتا ہے۔ نیلاہٹ مٹیالے پن میں بدل چکی ہے۔ پرندے بھی دور دور تک نظر نہیں آتے، شاید سہم کے گھونسلوں سے نکلتے ہی نہیں ہوں گے۔ معلوم نہیں دانا دنکا بھی پاس ہو گا کہ نہیں؟ کیا پیاس بجھانے تالاب پہ جاتے ہوں گے؟ یا وہ بھی انسان پہ آئی اس ابتلا کے غم میں اپنے آپ پہ جبری تنہائی طاری کیے بیٹھے ہوں گے۔

کھڑکی سے نظر آنے والا اکلوتا درخت بھی چپ چاپ خاموش کھڑا ہے۔ موت کی آہٹ سونگھتے ہوے سوچ رہا ہے۔ کیا میں دیکھ پاؤں گا ان روشن چہروں کو جو میرے سائے میں پڑی بنچ پہ بیٹھ کے اخبار پڑھتے ہوئے کافی کی چسکیاں لیا کرتے تھے۔ اور وہ عمر رسیدہ مگر چست قدم بوڑھیاں جو اپنے بچوں کے ننھے منے بچے پرام میں ڈال کے شام کو ٹہلنے نکلتی تھیں اور میرے پاس کھڑے ہو کے پہروں باتیں کرتی تھیں۔ ان آوازوں اور قہقہوں میں زندگی رقص کرتی تھی۔ نہ جانے اس زندگی کو کس کی نظر لگ گئی۔

دن ہو یا رات، میں آج کل سو نہیں پاتی۔ جونہی پلکوں پہ نیند اترتی ہے، ایمبولینس کا اونچی آواز میں بجتا سائرن کھڑکی توڑ کے اندر گھس آتا ہے۔ میرا دل ایمبولینس میں سانس کے لئے ترستے مریض کے لئے تڑپنے لگتا ہے۔ ایک اور… ایک اور ستم رسیدہ۔

آواز جونہی مدہم ہوتی ہے، میں پھر آنکھیں موندنے کی کوشش کرتی ہوٰں لیکن کر نہیں پاتی۔ اب پولیس کار کے ہوٹر کی آواز ہے اور ساتھ میں بار بار یاد دہانی کا اعلان کہ باہر نکلنا موت ہے۔

میں پھر سے اٹھ کے بیٹھ جاتی ہوں۔دن اور رات میں فرق گم ہو چکا ہے۔ میں کمپیوٹر پہ کام کرتی ہوں، کافی پیتی ہوں اور پھر کام۔

میرے اپارٹمنٹ کے اردگرد والا علاقہ ریڈ زون قرار دیا جا چکا ہے۔ مریضوں کی نشاندہی کرنے والے نقشے کے مطابق میرے آس پاس ہر گھر میں مریض ہیں۔ میرے اوپر والے فلیٹ میں کیتھرین اپنی دو سالہ بچی کے ساتھ اکیلے رہتی ہے۔ کیتھرین کو دو دن سے تیز بخار اور کھانسی ہے لیکن کسی ہسپتال میں جگہ نہیں کہ وہ جا سکے۔ ڈاکٹر نے آن لائن دیکھ کے بتایا ہے کہ جب تک سانس نہ اکھڑے، وہ گھر پہ ہی رہے۔ کیتھرین دو سالہ بچی کے ہمراہ یہ جنگ لڑ رہی ہے۔

میرے اخبار کی ایڈیٹر کا شوہر بھی بیمار ہے۔ وہ کام کے ساتھ ساتھ اس کی تیمارداری کرتے ہوئے کوشش کر رہی ہے کہ خود کو بچا لے۔

میری بلڈنگ میں رہنے والی نرس جب بھی واپس آتی ہے، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کی سسکیوں کی آواز میں سنتی ہوں۔ رات دیر تک اس کے فلیٹ کی بتی روشن رہتی ہے، ساتھ میں وائلن کی غم میں ڈوبی آواز جیسے کوئی بین کر رہا ہو۔ اگلی صبح تڑکے وہ پھر روانہ ہو جاتی ہے۔ میں سوچتی ہوں نہ جانے کچھ کھایا بھی ہو گا کہ نہیں۔

میرے ڈاکٹر دوست کام، بے خوابی اور موت کی وحشت کے ہاتھوں بے حال ہو چکے ہیں۔ وہ کام کرتے ہیں اور روتے ہیں، روتے ہیں اور کام کرتے ہیں کہ ہسپتالوں میں لاشیں رکھنے کی جگہ بھی باقی نہیں رہی سو مردہ لاشوں سے بھرے فریزر ہسپتالوں کے باہر رکھ دیئے گئے ہیں۔ نیویارک میں موت ہولی کھیل رہی ہے، زندگی سے بھرپور یہ شہر مر رہا ہے۔

کچھ دن سے کھانا پکانے کو جی نہیں چایا کہ بھوک ہی کہیں گم ہو چکی ہے۔ جسم وجاں کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے تو کچھ لقمے ہی کافی ہوا کرتے ہیں سو کبھی ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا اور کبھی رس یا بسکٹ۔

آج پاکستان کی خبریں پڑھتے ہوئے آپ سب کی بہت یاد آئی اور وہ سب بھی جو آپ کی یادوں سے بندھا ہوا ہے۔ وہ میرے گھر آنے پہ حلیم بنانا اور اپنی نرم آواز میں مجھے پکارنا، میری آنکھ کو نم کر گیا۔ کچن میں کافی بنانے گئی تو آپ کا بھیجا ہواحلیم کا پیکٹ نظر آ گیا۔ نہ جانے دل میں کیا آئی کہ بنانے بیٹھ گئی۔ شاید اسی سے دل پہ طاری یہ غم و مایوسی کی کیفیت ٹوٹ جائے۔

اور معلوم ہے کیا ہوا، جونہی حلیم تیار ہوئی، اس سے اٹھتی بھاپ کے پیچھے آپ کی صورت دکھائی دی۔ وہ آپ ہی کی آواز تھی جیسے آپ مجھے کھانے کی میز سے پکار رہی ہوں۔ ایک لمحے کو یوں لگا کہ آپ یہیں ہیں، یہیں کہیں ہیں اپنی ہنسی کے ساتھ۔ لیکن مجھے علم ہے کہ آپ یہاں نہیں ہیں۔ یہ تو میری تنہائی ہے جو مجھ سے آنکھ مچولی کھیلتی ہے۔

آپ کو معلوم ہے، میں کیا سوچتی ہوں؟ ہم ایک ایسے بے رحم طوفان سے گزر رہے ہیں جو تاریخ کا حصہ بنے گا۔ وقت کا یہ اندھا پڑاؤ ہر کسی کی قسمت میں نہیں آیا کرتا۔ آنے والی دنیا اس کا ذکر کرونا سے پہلے اور کرونا کے بعد والے زمانے کے طور پہ کرے گی۔

ماں، ایک بات بتاؤں آپ کو!

اگر میں بچ گئی تو میں وہ نہیں رہوں گی جو تھی۔ اندر کچھ بجھ سا گیا ہے،

آنکھوں سے کچھ پگھل کے باہر کو امڈتا ہے۔ زندگی کی حقیقت جان لی ہے میں نے۔ اور میں حیران ہوں کیسے کچھ ہی دنوں میں سب بدل جایا کرتا ہے۔ میں موت کے اس کھیل کی عینی شاہد ہوں ماں! اور اب میں وہ نہیں ہوں جو تھی۔

آپ کو کافی دنوں سے فون نہیں کر سکی، شرمندہ ہوں۔ میرے آس پاس آوازوں کا اس قدر شور ہے کہ مجھے اپنی آواز بھی اچھی نہیں لگتی۔ میں آج کل چپ رہنا چاہتی ہوں!

امید ہے آپ میری بات سمجھ جائیں گی، اپنا خیال رکھیے گا اور احتیاطی تدابیر بھولیے گا نہیں۔ نسیم آنٹی کا خیال رکھیے گا، وہ ہماری ذمہ داری ہیں۔

ماں! ہم پھر ملیں گے ایک دن! پھر سے ایک دوسرے سے گلے ملنے کے لئے۔ انشاءاللہ !

خدا حافظ، اماں!

جان مادر!

تمہارا خط پڑھا!

دل کی دھڑکنیں بے تریتب ہوئی جاتی ہیں۔ بے آواز آنسو گریبان بھگوتے ہیں، کرب سانس نہیں لینے دیتا۔ سوچتی ہوں، گہرے احساس کا یہ روگ اس عمر میں آخر کیسے لاحق ہوا تمہیں ؟

پھر خیال آتا ہے تمہارا کیا دوش؟ تم نے تو زندگی کو اس دن سے برتنا شروع کیا جب تم ماں کے بطن میں تھیں۔ تم زندگی کے اس سفر میں شروع ہی سے ماں کی ہمرکاب رہیں، ننھی عمر سے دنیا کو دیکھنا شروع کیا، دنیا میں پھیلے رنج و الم کو لاشعوری طور پہ محسوس کیا اور جانے انجانے میں اس تصویر کا حصہ بن گئیں۔

کیسے بھولوں وہ دن جب کبھی کبھی تمہاری آیا چھٹی کر لیتی اور میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہوتا کہ تمہیں اپنے ساتھ ہسپتال لے جاؤں۔ سول ہسپتال مری کی چڑھائی پہ دو ڈھائی سالہ بچی کی پرام دھکیلتے ہوئے میں ہانپ ہانپ جاتی۔ پھر دوپہر تک مریض دیکھتی اور تم صبر سے پرام میں بیٹھی کھیلتی رہتی۔ کبھی میری گود میں آنے کے لئے نہ ضد کرتیں اور نہ ہی روتیں۔

اس عمر میں بھی تمہاری قوت مشاہدہ اس قدر تھی کہ ایک دفعہ گھر جا کے اپنے پاپا سے کھیلتے ہوئے تم نے بے اختیار فرمائش کی تھی، آپ لیٹ جائیں میں نے چیک کرنا ہے اور بعد میں پیٹ کو ہاتھ لگا کے تمہارا سوال ” کیا بچہ ہلتا ہے؟” ہمیں ہنسا ہنسا کے بے حال کر گیا تھا۔

میری بیٹی! دنیا میں جب بھی کوئی ابتلا آئی، چاہے انسان کے اپنے ہاتھوں یا قدرتی آفات کے ذریعے، انسان کو نہ صرف اس آزمائش سے گزرنا پڑا بلکہ بھاری قیمت بھی چکانا پڑی۔ بہت سوں نے نہ صرف وقت کا عذاب سہا اور جان کا نذرانہ دیا۔ وہیں بچ نکلنے والوں کی ماہیت قلب ہی بدل گئی کہ درد و اذیت باقی رہ جانے والی زندگی کے ساتھی ٹھہرے۔ موت کا بے رحم چہرہ اور وحشیانہ ناچ دیکھ کے آپ کیسے وہ رہ سکتے ہیں جو تھے ؟

انسان کا پیدا کردہ طوفان پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی شکل میں اور قدرت کی آزمائش سپینش فلو کی صورت میں اس کائنات نے دیکھی۔ لاکھوں افراد نے بلیک آوئٹس کی تاریکی میں چاروں طرف بموں کی برسات سہی، مورچوں میں چھپ کے موت سے پناہ مانگی، بھوک اور پیاس کا ذائقہ چکھا، گھروں سے دربدری ہوئی، اپنے پیاروں کو جنگ یا بیماری میں پاؤں رگڑتے اور بچھڑتے دیکھا۔ جانتی ہو ان کے ساتھ کیا ہوا؟

وہ کبھی بھی ان برسوں سے پہلے کے وقت میں نہیں لوٹ سکے۔ ان کی بقیہ زندگی کی راتیں بے خواب ہی رہیں، ان کے کانوں میں مرنے والوں کی چیخیں زندہ رہیں۔ کسی کی یادیں ان سے بات کرتی ہی رہیں۔ لیکن وہ پھر بھی جیے ایک امید اور خواہش کے ساتھ کہ کبھی کوئی اور ان جیسا جنگ اور بیماری کی وحشت کا شکار نہیں ہو گا۔ ان کی کہانیاں عبرت کا باعث بنیں گی۔ آگ اور خون کی ہولی کھیلنے کے شوقین سبق سیکھیں گے۔

تمہیں علم ہی ہو گا کہ عورت اس امتحان سے کیسے گزری؟

مصائب، وحشت، دہشت، بھوک، پیاس، خوف، غم اور در بدری تو تھی ہی ، عورت کو اپنے عورت ہونے کا خراج بھی دینا پڑا۔ طوفانوں اور ہتھیاروں سے کھیلنے والوں اور موت کو ارزاں کرنے والوں کو اپنی وحشتوں کو ٹھنڈا کر کے وقتی سکون چاہیے تھا۔ اس زد میں اسی سالہ بڑھیا بھی آئی اور کم عمر بچی بھی۔ ہر خطے اور ہر رنگ و نسل کی لاکھوں عورتوں نے ابتلا کے اس عالم میں اپنی ذات کو کچلا ہوا دیکھا۔

ہمارے خطے میں بھی قیامت تقسیم کی صورت آئی اور عورت یہاں بھی بے موت ماری گئی۔ ہمارے اہل درد نے عورت کی بےچارگی کے نوحے لکھے۔ منٹو وہ دیوانہ تھا جسے یہ درد روگ بن کے چمٹ گیا۔ لہو کی تلاش میں اس نے دستانے پہنے ہوئے شہر کو کبھی”کھول دو “ کہہ کے جھنجوڑنا چاہا اور کبھی ٹوبہ ٹیک سنگھ کا دلخراش حال کہا۔ وحشت کو ٹھنڈے گوشت کا نام دے کے انسانیت پہ قہقہے لگانے والا اصل میں ہماری بے حسی پہ روتا رہا۔ ہم بدقسمت ٹھہرے کہ اس کی نشترزنی کو نہ سہار سکے، الٹا اسے ہی نشانہ بنا ڈالا اور وہ زندگی ہار گیا۔

میری جان! ہم وہ نسل ہیں جو ان عالمگیر جنگوں کو تو نہ دیکھ سکی لیکن حضرت انسان کی لگائی ہوئی دہشت گردی کی آگ سے نہ بچ سکی۔ تم بچوں نے اسی خوف میں آنکھیں کھولیں۔ یاد ہیں وہ دن جب پنڈی میں بیکن ہاؤس سکول میں دھمکی کے بعد دیواریں اونچی کرنے کے بعد باڑ لگوائی گئی تھی اور گیٹ کے سامنے پشتے رکھ دیے گئے تھے۔ میں تم تینوں کو سکول لرزتے دل کے ساتھ بھیجتی تھی اور سارا دن ہولتی تھی جب تک تم تینوں کے معصوم چہروں کی روشنی آنگن میں پھر سے روشنی نہ کر دیتی۔

میری بیٹی! غم کی ہر گھڑی ایک عجیب ساعت بن کے گزرتی ہے۔ یہ روح پر ایک ایسا چرکا لگاتی ہے جس کا نشان کبھی مندمل ہی نہیں ہو پاتا، دل پہ پڑی خراش بھر ہی نہیں پاتی۔ ہر برا وقت ایک ایسی یاد چھوڑتا ہے جو آنکھوں میں نمی اور جسم کے اندر خلا پیدا کرنے پہ قادر رہتا ہے۔ اہل دل اور اہل نظر کے لئے یہ خالی پن احساس کی ایک ایسی جوت جگاتا ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوا کرتی۔ انسان کے اندر ایک تیسری آنکھ جاگ اٹھتی ہے جو ظلم ہوتا دیکھ کے مظلوم کی آہ زمانے کو سنواتی ہے۔

مجھےخوشی ہے کہ تمہارے اندر کی آنکھ اس کم عمری میں بیدار ہے۔ انسانی کرب پہ تم تڑپ اٹھتی ہو، رنج والم تمہاری روح تک پہنچتا ہے۔ انسانی درد کے یہ موتی ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوا کرتے، یہ تو اہل درد کا خاصہ ہے۔

میری بہادر بیٹی!

تاریخ کو رقم ہوتے دیکھنا اور اس کا عینی شاہد ہونا تمہاری زندگی کا ایک اہم موڑ ہے۔ تم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہو اور میں تمہاری آنکھوں سے بالکل ویسے ہی جیسے تم نے کبھی زندگی کو میری نظر سے جانا تھا۔

میری زندگی! جب تمہاری یاد آتی ہے تو میں تمہارے کمرے میں چلی جاتی ہوں۔ آنکھیں بند کر کے تمہاری کتابوں کو چھوتی ہوں تمہارا چھوڑا ہوا لمس محسوس کرنے کے لئے۔ تمہارے کپڑے سونگھتی ہوں اور تمہاری خوشبو کے سہارے میں تم تک پہنچ جاتی ہوں تمہیں گلے لگانے کے لئے۔

لان میں تمہارے پسندیدہ جھولے پہ بیٹھ کے اداس آسمان کو دیکھتی ہوں۔ سوچتی ہوں کہ آسمان کا کونسا ٹکڑا تمہاری کھڑکی سے تمہیں تکتا ہو گا، شاید اس ٹکڑے کی پلکوں پہ مجھے تمہارا کوئی عکس نظر آ جائے۔

دیواروں پہ چڑھی بوگن ویلیا پہ زرد پھولوں کی بہار ہے۔ تیز دھوپ میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے چاروں طرف سرسوں پھولی ہو۔ بوڑھا برگد اداس تھکی ہوئی نظروں سے چاروں طرف پھیلے سناٹے کو تکتا رہتا ہے تم لوگوں کی آوازوں کی تلاش میں جو یادوں کی لہروں کے ساتھ دبے پاؤں یونہی چلی آتی ہیں۔

ہم ڈاکٹرز تالہ بندی میں نہیں ہیں سو ہسپتال کا شغل تو جاری ہے۔ ہسپتال میں سب نادیده دشمن سے خبردار رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے سا ماحول تو نہیں رہا لیکن سب کی کوشش ہے کہ اضطراب اور بے چینی حواس کو بکھرنے نہ دے۔

مجھے کامل یقین ہے کہ ہم اس بے رحم وقت کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے گزار لیں گے۔ میں یہ نہیں جانتی کہ طوفان گزر جانے کے بعد ہم کتنا بدل چکے ہوں گے مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ ہمارا احساس اور درد کا اثاثہ ضرور بڑھ جائے گا۔

بدیس گئی چڑیوں کے اپنے آنگن میں لوٹنے کی آس لئے بہت سا پیار اور دعائیں!

تمہاری ماں۔

طاہرہ کاظمی

راولپنڈی میں پیدا ہوئیں،  والد سرکاری ملازم تھے۔ بچپن ہی سے غیر نصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔مضمون نویسی اور مباحثوں میں بے شمار انعام جیتے۔ زمانہ طالب علمی میں ہی ریڈیو، ٹی وی اور اخبار میں آنا جانا رہا۔

فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور بہترین آل راؤنڈر طالبہ کی حیثیت سے گولڈ میڈل حاصل کیا۔

سپیشلائزیشن کے لئے گائناکالوجی کے مضون کا انتخاب کیا اور فیلوشپ کی ڈگری حاصل کی۔ ٹیچنگ سے دلچسپی ہونے کے باعث میڈیکل ایجوکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری ہالینڈ کی ماسٹرخت یونیورسٹی سے لی۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں کام کیا اور دیہی علاقوں میں بھی خدمات سر انجام دیں۔

اس وقت عمان کی منسٹری آف ہیلتھ میں سینیئر کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ کام کر رہی ہیں۔

لکھنے سے دلچسپی تو بچپن سے تھی اور عورت کے مسائل کا اصل اندازہ دیہی علاقوں میں کام کر کے ہوا۔ ذاتی حیثیت میں چیرٹی اور فلاح و بہبود کے کام تو شروع سے کر رہی تھی لیکن کالم نگاری کا باقاعدہ آغاز 2019 میں کیا۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form