وقت کا صحرا

نعیم فاطمہ علوی

دھیما لہجہ ہنسی میں بچوں جیسی بے فکری اور طمانیت۔۔۔۔ دھیرتی پر پائوں رکھتی ہے۔ انتہائی سنبھل سنبھل کے۔ نہ غرور حسن۔۔۔۔نہ لب ولہجے میں تکبر انکساری بھی ایسی کہ اس کی شان بے نیازی نمایاں۔۔۔۔زمانے کے نشیب وفراز کو بہت قریب سے دیکھا۔ جو اں مردی سے حالات کا مقابلہ کیا۔ اور کہیں پر بھی اپنی خودداری کا سودا نہیں ہونے دیا۔ حسن سے آگاہی تو ہے مگر اس آگاہی نے نسوانیت کو اور نمایاں کیا ہے۔

اپنے محبوب شوہر کے ساتھ بہت کم وقت گزرا مگر آج بھی اس محبت کی خوشبو کو دامن میں لپیٹے وفا کا آنچل سنبھالے بڑی تمکنت سے جی رہی ہے۔

منیرہ اپنی چال ڈھال، وضع قطع گفت وشنید اور دلکش ادائوں میں آج بھی شمیم کی محبوبہ کی طرح جیتی ہے۔ میں جب بھی منیرہ کی تحریر پڑھتی یا سنتی ہوں تو دل دکھنے لگتا ہے۔ منیرہ نے اپنے دل میں محبت کا تاج محل بنا رکھا ہے وہ اس محل میں یادوں کے دیپ جلا کر گردوپیش کو منور کرلیتی ہے۔ یہ روشنی اس کے لبوں پر مسکراہٹیں لے کر ہر وقت پھیلی رہتی ہے۔ محبوب سے پچھڑنے کا غم انہوں نے کتابوں میں ڈھونڈ لیا ہے ۔ رانجھا رانجھا کرتی کہ میں آپ کی رانجھا ہوئی۔

شمیم خود بھی تنہا تھا یہ وحشت ناک تنہائی منیرہ کو بھی ورثے میں دے گیا۔ منیرہ نے اس ورثے کو سنبھالا۔ دل ودماغ کے کھیتوں میں بویا۔ اور پھر اس سے کہانیوں کی فضا آج منیرہ کی پہچان ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ منیرہ ہمیشہ کانٹوں میں دامن بچا کر چلنے کی عادی ہے۔ بہت زیادہ دوست نہیں بناتی مگر جو بناتی ہے انہیں خوب نبھاتی ہے۔ وہ رشتوں میں مٹھاس بھرنے کاہنر جانتی ہے۔ اپنی سوچ وفکر کو مثبت رکھتی ہے۔ حسد، کینہ اور نفرت کے سمندر میں کبھی غوطہ زن ہوتے نہیں دیکھا۔ ایک دن مجھے بتایا کہ شمیم اپنے ایک کوٹ کی جیب میں پیسے رکھتے تھے جب میں مانگتی تھی تو اسی کوٹ کی جیب سے نکال کر دیتے تھے وہ کوٹ آج بھی اسی طرح میری الماری میں لٹک رہا ہے اور میں اسی جیب میں پیسے رکھتی ہوں اور اسی جیب سے نکالتی ہوں۔ شمیم کی یادوں کو بھی منیرہ نے اسی طرح سینت سینت کر رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنی یادوں کا تذکرہ کبھی کسی سے نہیں کرتی بس کہانیاں بنتی رہتی ہے۔ تنہائی کے تانے بانے سے محبت کا لباس تیار کرتی ہے۔ اس پر یادوں کے پھول کاڑھتی ہے۔ اور پھر اس کو لفظوں کی مالا میں پرو کر کہانیوں کی زنجیر بناتی ہے۔

اب دیکھئے نا۔۔۔لفظ باتیں کریں۔۔۔۔۔کہیں کہتی ہیں۔۔۔

میں نے دوبارہ اپنی تحریر کو دیکھا۔۔۔۔سیاہ لفظ ماتمی جلوس کی طرح نوحہ کہاں تھے۔ کہانی تو ابھی شروع ہوئی تھی کہ جلد ہی ایک دشت میں اتر گئی اور دیکھتے دیکھتے ہی ریت میں جذب ہوگئی۔

’’اور پھر۔۔۔۔۔‘‘ لے گیا جیسے کوئی سرد ہاتھ مجھے چھوڑ کر میرے پاس سے گزرگیا ہو اور کمرے میں ٹھنڈک سی ٹھہر گئی ہو میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ ڈرجانے کے بجائے اچانک خوش ہو کر میرے لکھنے میں تیزی آگئی۔

اداس رنگوں کی بارش میں بھی منیرہ یادوں کا عصا تھا جیسے اندھیرے میں اسی کو پکڑنے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

مگریہ کیسا ساون ہے جس میں بادل کی گونج بھی سنائی نہیں دیتی ہے۔ نہ آپ پر بوندوں کے گرنے کی آوازیں ، نہ بارش کی پھوار۔۔۔۔۔ وہ دن تو کہیں مغموم ہوچکے ہیں۔ گزرتے وقت کی ڈھیروں نے ان کو ڈھانپ لیا ہے ۔ وہ دن اب واپس نہیں آئیںگے۔ مگر ماضی اپنی گہری چھاپ یاد کی صورت میں چھوڑ جاتی ہے جس کی گرفت سے آزادی ممکن نہیں۔

اسی طرح چاہت ایک سمندر کو دیکھیں تو لگتا ہے منیرہ نے اپنے دل ودماغ میں چاہت کی جو فصل اگائی تھی اسے ناامیدی یا مایوسی کے اندھیرے میں کم نہیں ہونے دیا بلکہ آفاقیت کے درجے تک پہنچا دیا۔ آرسی آفیر جب  اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہوجاتا ہے تو اپنی محبوب کے لیے دل میں ہزاروں اندیشے اور خدشے پیدا لیتا ہے۔ مگر خیالات کے اس مدوجزر کو انہوں نے محبوبہ کے محبت بھرے لفطوں سے جیت لیا کبھی نہیں۔ ’’ہمت سے کام لو تم نے سنا نہیں جو سندر چہرہ سادہ ہو تو اس کا دل سونا ہوتا ہے اور ایسی لڑکیاں سپاہی کے اپاہج ہونے کے خوف سے نہیں ڈرتیں۔‘‘

منیرہ کی کہانیوں میں انوکھے پن کی کیفیت بھی ملتی ہے وہ محبت کی ان کہانیوں کو بنتے بنتے کبھی کبھار انوکھے پن سے قاری کو حیران کردیتی ہے۔ مثلاً ان کی کہانی میں وہی محبت، وہی تنہائی وہی لفظوں کا بنائو۔ مگر وہ ایک جملہ سنیے۔ تمہارے اندر کی تنہائی کو کم کرنے کے لیے وہ خط نہیں تمہیں لکھے تھے‘‘ کہہ کر منیرہ کہانی کو انوکھے انداز میں ختم کردیتی ہیں۔

’’اگر محبت کا دیوانہ ہوتا تو محبت کے بعد یہ زندگی کتنی بے معنی سی لگتی؟۔ اپنے اس جملے کی حقیقیت کو واضح کرنے کے لیے انہوں نے افسانہ سمجھوتہ کے تانے بانے کوا س طرح بنا کر محبت کی حقیقت نمایاں نہیں نیت نمایاں کردیا۔

منیرہ کو ملک سے باہر جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ وہاں کی سرد ہوائوں اور ٹھنڈنے موسم کی اداسیوں کو اسے تنہائیوں کے دشت میں اس طرح بیان کیا ہے کہ ماحول کا ہررنگ آنکھوں کے سامنے تصویریں بنا ہے۔ اسی طرح واہ کے زمانے کو بھی انہوں نے اپنے تمام تر ماحول اور خوبصورتی کے ساتھ افسانے واہ جائے خوب است میں محفوظ کردیا ہے۔

حیرت ہوتی ہے کہ بدیسی شمیم نے جب ہرے پرچم والے ملک میں قدم رکھنا تو بنتا تھا۔ مگر جب رخصت ہوا تو محبت کرنے والوں کی نئی دنیا آباد تھی۔ اور یہ دنیااس نے خود آباد کی تھی۔ ایک جگہ واہ فرماتے ہیں محبتوں کے ہی اثاثوں میں میرے واہ دوست ہیں۔ جن کے بغیر مجھے یہ زندگی ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے دستک کے بغیر آسمان۔

احمد شمیم کے اندر جو سلگتی یادیں اور ہجرت کے دکھ تھے وہ سمٹ سمٹ کر منیرہ کے حوالے کرگئے اور منیرہ کے اس سلسلے کو بہت ہی خوبصورتی سے آگے بڑھاتے ہوئے ہمیں وقت کا صحرا میں سمیٹ کر نہ صرف یہ کہ ہمیں تحفتا عھا کردیتے بلکہ اس حقیقت کو بھی ثابت کرکے دکھا دیا کہ

تو آئے تو تجھ کو دکھائیں یہ ویراں ویراں لمحے

دل کو کیسے تڑپاتے ہیں گیت میں کیسے ڈھلتے ہیں

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form