یوسف عزیز زاہد کی نظمں

January 12, 2019
"دیدبان شمارہ 9 "مزاحمتی ادبنثری نظمشاعری

یوسف عزیز زاہد

اک خواب کا نوحہ 1...

مرے کچھ خواب ایسے ہیں

جنہیں تعبیر کی دہلیز پر میں چھوڑ آیا ہوں

لہو میں رچ گٸے تھے جو وہ رشتے توڑ آیا ہوں

مرے چارہ گروں نے خواب آنگن میں کچھ ایسے خواب بو ٸے تھے

چبھن جن کی بہت آزار دیتی ہے

کچھ ایسے زخم کھلتے ہیں جو رونے بھی نہیں دیتے

کچھ ایسے درد ملتے ہیں جو سونے بھی نہیں دیتے

کچھ ایسے خواب ہوتے ہیں جو تعبیروں کی جھوٹی راہ تکتے ہیں،یقیں ہونے نہیں دیتے

یقیں۔۔۔۔۔وہم وگماں کی آہٹوں سے ٹوٹ جاتا ہے

کوٸی سفاک لمحہ لَوٹ آتا ہے تو پھر سوٸے ہوٸے زخموں کو چپکے سے جگاتا ہے

کسی افسردہ ساعت میں شکستہ آہٹوں کا عکس جب نمناک ہوتا ہے،وہی لمحہ بہت سفاک ہوتا ہے

میں اُس سفاک لمحے سے رہاٸی جب بھی پاتا ہوں،تصور بھی حسیں ہوتاہے ، میرا خواب بھی مجھ کو امیدوں کے کنارےسونپ کر اک خوبصورت مسکراہٹ سے لبھاتا ہے

مگر میں سوچتا ہوں کب ، کہاں امید کی میٹھی مدھر سی تان ٹوٹی تھی؟کہاں مجھ سے مری پہچان روٹھی تھی؟

کہاں ایمان روٹھا تھا؟

(مرا وجدان جھوٹا تھا)

مرا وجدان کہتا ہے

لہو کا ایک دریا تھا جہاں سے میں گزر آیا۔۔۔۔کنارے پر اُتر آیا

کنارے پر مگر اک آس بیٹھی نا امیدی کے نٸے اوراق لکھتی تھی

کسی سفاک لمحے کے عجب اسباق لکھتی تھی

اسی سفاک لمحے میں قدم بھی ڈگمگاٸے تھے 

ہوانےبھی سسکتے گیت گاٸے تھے

کنارا ڈھونڈھتا ہوں میں

لہو کا ایک دریا ہے بھنور میں جس کے رہتا ہوں۔۔۔۔نیا اک زخم کہتا ہوں/

کہ یہ سفاک لمحہ جب بھی آتا ہے

مری دہلیز پر اک خواب ایسا چھوڑ جاتا ہے جسے تعبیر کا روشن ، حسیں چہرہ نہیں ملتا

2

۔۔۔ نظم،،،،پسِ خواب ،،،،

کہانی میں نیا اک موڑ آیا تھا

کوئی رستہ مجھے رستوں میں جیسے چھوڑ آیا تھا

وہیں ۔۔۔۔اُس موڑ پر کچھ خواب بکتے تھے  

نئی دنیا بسانے کے نئے آداب بکتے تھے  

پرانی اک کہانی کے نئے ابواب بکتے تھے

ابھی میں نے کہانی کو وہیں سے پھر سنانا ہے جہاں سے سلسلہ ٹوٹا  

مگر جب بھی کہانی میں سناتا ہوں تو راوی ٹوک دیتا ہے

مجھے رستوں میں ایسے روک لیتا ہے کہ جیسے میں ہی یوسف ہوں

جسے زنداں میں رہ کر ہی نئے خوابوں کو اب تعبیر دینی ہے

زلیخا کو پسِ داماں کوئی توقیر دینی ہے

زلیخا نے عزیزِ مصر کے دربار میں شاید اک ایسا خواب دیکھا ہو

جسے تعبیر کی سولی چڑھانا تھا  

جسے بینائی کے لمحوں میں اپنا عکس پانا تھا

ابھی یوسف نے جن خوابوں کی تعبیریں بتانی ہیں  

انہیں بھی تو زلیخا نے خود اپنی آنکھ میں پل بھر سجانا ہے

(یہ قصہ گر پرانا ہے)

کہ جب چشمِ زلیخا میں کوءی بھی خواب سجتا ہے

تو شہرِ مصر کا بازار لگتا ہے

زلیخا ۔۔۔۔۔۔!خواب لکھو نا / (خریداروں کے سکوں کی کھنک تم نے سُنی ہے کیا؟) زلیخا۔۔۔! خواب دیکھو نا

عزیزِ مصر نے پیغام بھیجا ہے

کہ آنکھیں بیچ کر اب خواب جتنے بھی خریدو گے

انہیں زنداں کے قیدی کو سنانا ہے  

(پسِ دیوار اب تم نے دیا بھی اک جلانا ہے)

مگر یہ فیصلہ کرنا بہت دشوار لگتا ہے

جو راوی ہے کہانی کا ، کہانی سےبہت بیزار لگتا ہے

کہاں منزل کا سنگِ میل رکھنا ہے  

کہاں رستہ بدلنا ہے

کہاں دامن کو کانٹوں سے بچانا ہے

کہاں پھولوں کو پیروں سے مسلنا ہے

کہاں یوسف کو جانا ہے؟  

کہانی روٹھ جانے پر اسے بھی تو منانا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہانی میں نیا اک موڑ آیا ہے

زلیخا نے نیا اک خواب پایا ہے

یوسف عزیز زاہد

یوسف عزیز زاہد ١٨ نومبر ١٩٥٠ عیسوی میں پشاور میں پیدا ہوئے. اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ساتھ شعروادب کے لئے بھی خود کو وقف کر دیا .وہ ایک معروف  شاعر ،ڈرامہ نگار ،اور افسانہ نگار ہیں.اب تک ان کے دو افسانوی مجموعے" لا یعنیت کی بھیڑ میں " اور روشن دان میں اندھیرا منظر عام پر آ چکے ہیں .ایک شعری مجموعہ زیر ترتیب ہے .ریڈیو کے لئے بے شمار ڈرامے لکھے ، سیریل بھی تحریر کیا . انہیں اللہ بخش یوسفی ایوارڈ اور اباسین گولڈ مڈل ایوارڈ سی بھی نوازا جا چکا ہے .

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form